ملکیتی اراضی تنازعات پر6 ماہ میں مطلوبہ زمین حاصل نہ کی جاسکی
4 ہزار کنال سے کم کرکے منصوبہ اب 1596کنال تک محدود
لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب کابینہ کی منظوری کے باوجود ایل ڈی اے سٹی میں مجوزہ میڈیکل سٹی منصوبہ اراضی کے تنازعات کی نذر ہو گیا۔4 ہزار کنال سے کم کرکے منصوبہ اب 1596کنال تک محدود کر دیا گیا جبکہ اہم پیشرفت یہ کہ اراضی تو ایل ڈی اے کی ہوگی مگر تعمیرات کسی اور ادارے کے سپرد کر دی گئیں۔35 ارب کے ابتدائی تخمینے سے شروع ہونیوالا یہ منصوبہ مستقبل میں ڈیڑھ سو ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہا ئوسنگ سکیم میں چار ہزار کنال پر میڈیکل سٹی، جسے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کا نام دیا گیا، قائم کرنے کی اصولی منظوری دی تھی۔ اعلان کے وقت اسے صوبے کا جدید ترین طبی مرکز قرار دیا گیا، تاہم عملی مرحلے میں اراضی سے متعلق پیچیدگیاں آڑے آگئیں۔ایل ڈی اے سٹی ڈائریکٹوریٹ گزشتہ 6 ماہ کے دوران مطلوبہ زمین حاصل نہ کرسکا۔ بعض مقامات پر ملکیتی تنازعات سامنے آئے جبکہ چند کیسز عدالتوں میں بھی پہنچ گئے جس سے منصوبے کی ٹائم لائن متاثر ہوئی اور اصل خاکہ سست روی کا شکار رہا۔صورتحال کے پیش نظر حکمت عملی میں تبدیلی کی گئی۔ 4 ہزار کنال کے وسیع منصوبے کی بجائے دستیاب رقبے پر مرحلہ وار آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔ موضع طور وڑائچ میں1596کنال اراضی کو فائنل کر کے ابتدائی مرحلے کی تیاری مکمل کر لی گئی۔انتظامی سطح پر بھی اہم تبدیلی سامنے آئی۔ اگرچہ اراضی ایل ڈی اے نے فراہم کی ہے لیکن تعمیراتی ذمہ داری انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے سپرد کر دی گئی۔ یوں ایک ہی منصوبے میں زمین اور تعمیر کا اختیار دو مختلف اداروں کے پاس ہوگا۔ابتدائی مرحلے میں دو جدید ہسپتالوں، ایک ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ اور ماسٹر پلان بلڈنگ کی تعمیر شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ مرحلہ میڈیکل ڈسٹرکٹ کی بنیاد رکھے گا جبکہ مکمل طبی شہر آئندہ مراحل میں وسعت اختیار کرے گا۔مالی تخمینے بھی توجہ کا مرکز بن گئے۔ آئی ڈیپ نے ابتدائی لاگت تقریباً 35 ارب روپے لگائی ہے تاہم طویل المدتی توسیع اور مکمل انفراسٹرکچر کی تکمیل کے بعد مجموعی سرمایہ کاری ڈیڑھ سو ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔یوں کابینہ کی منظوری سے شروع ہونیوالا یہ میگا پراجیکٹ اب محدود رقبے، مرحلہ وار حکمت عملی اور ادارہ جاتی تقسیم کے نئے ماڈل کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔