افغان طالبان نے خواتین و بچوں پر گھریلو تشدد کو جائزقراردیدیا

 ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد باضابطہ طور پر قانونی حیثیت اختیار کر گیا
کابل(آئی این پی )افغان طالبان نے خواتین اور بچوں پر مشروط گھریلو تشدد کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان  میں طالبان حکومت نے ایک فوجداری ضابطہ نافذ کیا ہے، جس کے تحت خواتین اور بچوں پر اتنا گھریلو تشدد جائز ہے کہ اس سے ان کی ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا کھلے زخم نہ آئیں۔مذکورہ ضابطہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد باضابطہ طور پر قانونی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔نئے قانون کے مطابق شوہر اپنی بیوی اور بچوں کو جسمانی سزا دے سکتا ہے، تاہم اگر شدید طاقت کے استعمال سے واضح فریکچر یا نمایاں چوٹیں آئیں تو اسے زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا ہو سکتی ہے