گوردواروں و مندروںپر اخراجات : تفصیلات طلب

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سینیٹ مذہبی امور کمیٹی نے ملک بھر میں گوردواروں اور مندروں کی دیکھ بھال سمیت ان پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کر لی،کمیٹی نے مسلم فیملی لاز بل پر وزارت قانون و انصاف کو اگلے اجلاس تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔بدھ کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹرعطا اللہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور سمیت دیگر حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کو ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اوقاف کی زمینوں کو واگزار کروارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اوقاف کی آمدنی گردواروں، مندروں کی دیکھ بھال پر خرچ کی جاتی ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر گوردیپ نے کہاکہ پنجہ صاحب کی اردگرد زمینوں پر رہائشی کمرے بنائیںجس پر ایڈیشنل سیکرٹری نے کہاکہ 100کمروں پر مشتمل ایک پراجیکٹ ننکانہ صاحب پر بنا رہے ہیںجبکہ کٹاس راج مندر پر رہائشی کمرے بنا دیئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری بہت ساری زمین قبضہ میں ہیں، ہم نے قانون بنایا ہے کہ جو پراپرٹی شہری علاقوں میں ہے ان کو کمرشل استعمال کرکے آمدن وصول کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ اربوں روپوں کی جائیدادوں کو کراچی میں واگزار کروایا ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ متروکہ وقف املاک کی زمین کا کرایہ بہتر بنایا جائے جس پر حکام نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک کی زمین کا کرایہ مارکیٹ کے قریب قریب ہے ۔رکن کمیٹی سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ متروکہ وقف املاک کی آمدنی اور خرچ کی آڈٹ منگوایا جائے اور بتایا جائے کہ متروکہ وقف املاک کی کتنی زمین اوقاف کے پاس کتنی قبضہ اور کتنی زمین کا معاملہ عدالتوں میں زیر التوا ہے۔ رکن کمیٹی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ متروکہ وقف املاک پر بہت سارے کرپشن کے معاملے ہیںحکام نے بتایا کہ ہماری کچھ زمینیں گمشدہ ہیں ان کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنی زمینوں پر خود پلازہ بنائیں تاکہ ہماری آمدنی میں اضافہ ہو۔اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ مسلم فیملی قانون میں ترامیم بل پر وزارت قانون نے جواب جمع نہیں کروایا ہے۔پوری دنیا کے سکالرز فیملی ترامیم قانون پر زوم پر بریفنگ دینے کو تیار ہیں۔