مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے: جسٹس جمال مندوخیل

مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے: جسٹس جمال مندوخیل

ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران فل کورٹ بینچ، ججز کے کردار اور اپیل کے حقوق کے حوالے سے گہری بحث کی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ "مجھے جھوٹا کیا جا رہا ہے، 24 ججز کی میٹنگ ہوئی، کچھ شقوں پر معاملہ کمیٹی کو بھیجا گیا، چند ججز نے اِن پُٹ دیا اور کچھ نے نہیں۔"
وکیل عابد زبیری نے موقف اختیار کیا کہ پارٹی فل کورٹ بینچ پر درخواست دے سکتی ہے، اور آئینی بینچ کے لیے کم از کم 9 مزید ججز درکار ہیں تاکہ اپیل کی سماعت ممکن ہو۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اضافی ججز نامزد کرکے اپیل کا حق دے سکتا ہے، یا نہ دے کر عدالت کی آزادی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
فل کورٹ اور آرٹیکل 191 اے پر اختلاف
بعض وکلاء نے تجویز دی کہ آرٹیکل 191 اے کو سائیڈ پر رکھ کر کیس سنا جائے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے کسی آرٹیکل کو الگ رکھنا سمجھ سے باہر ہے۔جسٹس عائشہ ملک نے وضاحت کی کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ چیلنج شدہ شق کو کیسے الگ رکھا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ رولز اور ججز کی میٹنگ
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 24 ججز کی میٹنگ میں سپریم کورٹ رولز پر بات ہوئی، اور میٹنگ منٹس منگوانے کا کہا گیا تاکہ کیس آگے بڑھ سکے۔جسٹس عائشہ ملک نے وضاحت کی کہ فل کورٹ بنانے کا اختیار کمیٹی کے پاس نہیں، یہ چیف جسٹس کے اختیارات سے مختلف ہے۔