ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے تمام افراد کو مل کر کام کرنا ہو گا: رومینہ خورشید

حولیاتی بحران کا اثر صرف ماحول پر نہیں پڑتا ، یہ معاشی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کو بھی متاثر کرتا ہے
    اسلام آباد (یواین پی) وزیر اعظم کی معاون برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ رومینہ خورشید عالم نے کہا ہے کہ ماحولیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماحولیاتی بحران کا اثر صرف ماحول پر نہیں پڑتا ہے بل کہ یہ معاشی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں صنفی حساس اور ماحولیاتی اقدامات کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رومینہ خورشید عالم نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے معاشرے کے تمام افراد کو مل کر کام کرنا ہوگا خاص طور پر خواتین کو اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خواتین ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور انہیں اس حوالے سے آگاہی اور تعلیم دینا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے خاندانوں اور کمیونٹی کو بہتر طور پر تحفظ دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی آفات کے انفراسٹرکچر، روزگار اور پسماندہ کمیونٹیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان آفات کی وجہ سے غذائی کمی، صنفی تشدد اور کم عمری کی شادیوں میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر موثر ماحولیاتی اقدامات اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ اور اس کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔