دریائے چناب سے قادر آباد خانکی بیراج سے نکلنے والی نہروں کو پانی دستیاب نہیں ‘، پانی روکنے کے بعد پنجاب کی لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے
اقوام متحدہ رپورٹ پاکستان کے موقف کی جیت ہے ‘ عالمی قوانین کی خلاف ورزی بے نقاب کر دی ۔سندھ طاس معاہدہ اب بھی فعال ہے‘ تبدیلی نہیں کی جاسکتی :مہر علی شاہ
لاہور(آئی این پی)بھارت نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے قوانین کی دھجیاں بکھیرے ہوئے چناب کے بعد دریائے جہلم اور دریائے نیلم کا پانی بھی روک لیا۔ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور دریائے نیلم میں پانی کی آمد کم ہوکر صرف 3 ہزار کیوسک رہ گئی، دریا میں چار روز پہلے پانی کی آمد 5 ہزار کیوسک سے زائد تھی۔ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا بتانا ہے کہ چناب میں چار روز پہلے پانی 10 ہزار کیوسک تھا جو اب 5 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا اخراج صفر رہ گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دریاں کا پانی روکنا سندھ طاس معاہدے کی صریحا خلاف ورزی ہے، دریائے چناب اور جہلم میں پانی کا بہا تاریخ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔دریائے چناب سے قادر آباد خانکی بیراج سے نکلنے والی نہروں کو پانی دستیاب نہیں ہے، بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے بعد پنجاب کی لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے، آبی ماہرین نے انڈس واٹر کمیشن کو عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے بہا میں 90 فیصد کمی ہوئی۔ دریاں میں پانی کا بہا صرف 10 فیصد رہ گیا۔مہر علی شاہ نے کہا کہ اقوام متحدہ رپورٹ پاکستان کے موقف کی جیت ہے ۔ یو این نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی بے نقاب کر دی ۔سندھ طاس معاہدہ اب بھی فعال ہے۔ اس کے کسی پیٹرن میں بھی تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔