ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ، کمپیوٹر اور سائنس لیبز اپ گریڈز نہ ہوسکیں
لاہور( کرائم رپورٹر)سال 2024 میں نئی آنے والی حکومت نے نظام تعلیمی اور معیار تعلیمی کو بہتر کرنے کے کافی اعلانات کیے کچھ پورے ہوئے اور کچھ پر عملدر آمد ہونا باقی ہے۔صوبوں کی 20 جامعات میں ریگولر وائس چانسلر کی تقرری ہوئی۔ سکولوں اور کالجز میں ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کی سیٹیں اس سال بھی خالی رہیں۔ ساڑھے چار سو کالج نو تعلیمی بورڈز میں مستقل سربراہان کی تقرری نہ ہوسکی۔ حکومت نے نئے سکول بنانے کی بجائے 13 ہزار کو آ ئوٹ سورس کرنا شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔اساتذہ اس سال اپنے مطالبات کے لیے تعلیمی بائیکاٹ کیا۔سکولوں کی کمپیوٹر اور سائنس لیبز اپ گریڈز نہ ہوسکیں۔حکومت نے نئے سکول بنانے کے بجائے 13 ہزار سکولوں کو آ ئوٹ سورس کرنا شروع کردیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے جھگڑے جاری رہے۔ وائس چانسلر زکی تقرری پر گورنر ہا ئوس اور سی ایم آفس آمنے سامنے رہے۔ ن لیگ حکومت کا فلیک شپ لیپ ٹاپ سکیم منصوبہ بھی اس سال دوبارہ شروع کرنے کا اعلان ہوا۔۔انٹر ومیٹرک ٹاپرز کے اعزاز میں پھر سر سرکاری تقاریب کا آغاز ہوگیا۔ جنوبی پنجاب کے سکولوں میں مفت کھانے کا منصوبہ شروع کیا۔ جس سے ستر ہزار بچے نئے داخلے ہوئے۔