بانی کی رہائی کیلئے لاہور میں بڑا مظاہرہ نہ ہوسکا،5 ایم این اے ،1 سینیٹر اور 3 ایم پی اے ڈی نوٹیفائی ،سیٹیں خالی قرار

9ارکان پارلیمنٹ نا اہل ،3700 کارکن گرفتار  احتجاج پر پی ٹی آئی کو تحفہ

 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں ہونے پر نااہل ہونے والوں میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ شبلی فراز ،قومی اسمبلی عمر ایوب ، ایم این ایز زرتاج گل، صاحبزادہ حامد رضا، رائے حسن نواز،رائے حیدر ،ارکان پنجاب اسمبلی محمد انصر اقبال، جنید افضل ساہی، رائے مرتضیٰ اقبال شامل 

 اسلام آباد ، پشاور میں احتجاج اور ریلیاں ، لاہور میں گرفتار ہونیوالے ارکان اسمبلی رہا،ریحانہ ڈار کو چھوڑ دیا گیا ، علیمہ خان اوربہنوں کا چکری انٹرچینج پر دھرنا ، سندھ کے پچاس سے زائد چھوٹے بڑے شہروں میں کارکن نکلے ، پولیس نے شیلنگ بھی کی 
  اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شبلی فراز، عمر ایوب سمیت 9 ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز کو نااہل قرار دے دیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق نااہل ہونے والوں میں 5 ارکانِ قومی اسمبلی ،1 سینیٹر اور 3 ارکانِ پنجاب اسمبلی شامل ہیں۔نااہل ہونے والوں میں رائے حیدر علی، صاحبزادہ حامد رضا،رائے حسن نواز، زرتاج گل،ارکانِ پنجاب اسمبلی انصر اقبال، جنید افضل، رائے محمد مرتضیٰ اقبال بھی شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے نااہل ہونے والے ارکانِ اسمبلی کی نشستیں خالی قرار دے دیں۔الیکشن کمیشن نے 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں ہونے پر ان ارکان کو ڈی نوٹیفائی کیا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے پانچ اگست کو فیصل آباد کی دہشتگردی کی عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں نا اہل قرار دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان تمام ارکان کی عدالت سے قید کی سزا ہوچکی ہے۔ جس کے باعث انہیں آئین پاکستان کے آرٹیکل63ون ایچ کے تحت نا اہل قرار دیاگیا ہے۔ یہ اقدام آئین و قانون کے مطابق کیا گیا ہے۔ اور ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائے جائیں۔واضح رہے کہ چند روز قبل، فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے 3 مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل وزیر سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 196 رہنما ئوں اور کارکنوں کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔جس کے تحت سزا یافتہ شخص پارلیمان کا ممبر نہیں رہ سکتا۔ خیال رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران فیصل آباد، سرگودہا اور لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے نو مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد سرکاری املاک پر حملے اور جلا ئو گھیرا ئو کے الزامات ثابت ہونے پر تحریک انصاف کے درجنوں رہنما ئوں، اراکین پارلیمان اور کارکنوں کو سزائیں سنائی تھیں۔فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نو مئی کے واقعات سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سْناتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ سْنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔چند دن قبل سرگودھا عدالت کی سزا پر پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھر ، اعجاز چودھری بلال اور احمد چھٹہ ودیگر کو بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔
نااہل 
دوسرا انٹرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 لاہور ( کرائم رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک انصاف کی کال پر ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں ،کراچی، اسلام آباد ، پشاور میں احتجاج کیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ لاہور میں پولیس نے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب امیر ریحانہ ڈار سمیت پارٹی کے متعدد رہنما ئوں کو گرفتار کر لیا۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے پنجاب پولیس الرٹ رہی۔ پولیس لاہور کی اہم شاہرا ئوں پر موجود رہی ، پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے 3 ہزار 7 سو کے قریب رہنما ئوں اور کارکنوں کو حراست میں لیا۔بانی پی ٹی آئی کے حکم پر پی ٹی آئی نے احتجاج کیا۔پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس پنجاب بھر میں الرٹ رہی۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے رہنما ئوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کی گئیں۔ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر سے3ہزار 7 سوسے زائد گرفتار کئے گئے۔جبکہ امن و امان میں خلل ڈالنے والے 1 ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔پی ٹی آئی کے سرگرم کارکنوں اور رہنما ئوں کو پکڑنے کے لیے پولیس کے چھاپے گزشتہ تین روز سے جاری ہیں۔۔سب سے زیادہ لاہور سے 6 سو افراد کو حراست میں لئے گئے جبکہ ساڑھے 9 سو کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا۔ملتان 550ڈی جی خان سے192ورکرز کو گرفتار کیا گیا۔مظفر گڑھ 260فیصل آباد110لیہ سے80کارکنوں کو گرفتارکیا گیا۔زیادہ تر گرفتاریاں احتجاج کے لئے نکلنے والوں کی کی گئیں ۔ تحریک انصاف کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے احتجاج کی کال لاہور میں ناکام، پارٹی قیادت کارکنان کو احتجاج کیلئے نکالنے میں ناکام رہی، پی ٹی آئی لاہور تنظیم بھی احتجاج کا اعلان کرکے غائب رہی۔ پی ٹی آئی کے متعدد اراکین اسمبلی اور متحرک ورکرز گرفتار ہوئے۔ مرکزی قیادت کی جانب سے 5 اگست کو احتجاج کی کال پر تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی اور چند متحرک کارکنان باہر نکلے تو پنجاب پولیس بھی حرکت میں آ گئی۔ پائن اونیو کے علاقے میں احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش پر ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی، میجر ر اقبال خٹک، فرخ جاوید مون، سردار ندیم صادق ڈوگر، امین اللہ خان، شعیب امیر اعوان، خان صلاح الدین سمیت دیگر کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے دوران ایم پی اے شعیب امیر کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔ جب کہ عمر ڈار کی والدہ ریحانہ ڈار کو ایوان عدل سے گرفتار کیا گیا جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ ڈپٹی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی شوکت بسرا نے گلبرگ، ٹکٹ ہولڈر چوہدری اصغر گجر اور حافظ ذیشان رشید نے کینال روڈ اور تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے جاتی امرا میں ریلی نکالی۔ پولیس نے عالیہ حمزہ کو گرفتار کرنے کوشش کی جو خود تو بچ نکلیں لیکن ان کی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ ہولڈر ریحانہ ڈار، انکی بہو عروبہ ڈار اور ناز بلوچ کو پولیس نے ایوان صدر کے باہر سے احتجاج کے دوران حراست میں لے لیا۔ تحریک انصاف لاہور کی تنظیم اور صدر لاہور شیخ امتیاز محمود احتجاج کی کال دے کر خود غائب ہوگئے۔ مقامی رہنما اور ورکرز لاہور تنظیم کے عہدیداروں کی راہ تکتے رہے لیکن لاہور تنظیم احتجاج کیلئے نہ نکلی۔فلاپ احتجاج کے بعد صدر آئی ایل ایف لاہور ملک شجاعت جندران نے گرفتار رہنماوں اور کارکنوں کی ضمانتوں لیے تین لیگل ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جبکہ حراست میں لئے گئے تمام ارکان پنجاب اسمبلی کو رہا کر دیا گیا۔سپیکر پنجاب اسمبلی کے حکم پر اور وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع رحمٰن نے مداخلت کر کے پرچہ رکوا دیا۔ بانی پی ٹی آئی کی احتجاجی کال کے باوجود اڈیالہ جیل کے باہر بڑا مظاہرہ نہ ہوسکا، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے فیملی کی ملاقات نہ ہوسکی، علیمہ خان، ڈاکٹر عظمی اور نورین نیازی چکری انٹرچینج سے آگے نہ آسکی، علیمہ خان نے دیگر بہنوں کے ہمراہ چکری انٹرچینج پر دھرنا دیدیا۔ محمود اچکزئی اراکین اسمبلی بھی ان کے پاس پہنچ گئے احتجاجی کال پر ایک سینیٹر، دو ایم این اے اڈیالہ جیل کے قریب پہنچے ،تحریک انصاف 5 اگست پر راولپنڈی میں کوئی بڑا شو نہ کرسکی، پارٹی رہنماوں کی اڈیالہ جیل کے قریب مظاہرہ کرنے کی کال پر بھی بے سود ثابت ہوئی، صرف سینیٹر ہمایوں مہمند، ایم این اے مولانہ نسیم علی شاہ، ایم این اے ساجد خان مہمند اڈیالہ روڈ داہگل ناقے پر پہنچے جہاں پولیس نے آگے جانے سے روک دیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے چھ رہنماوں میں صرف ترجمان بانی نیاز اللہ نیازی جیل گیٹ 5 تک پہنچے لیکن پولیس نے فوری آگے جانے کی ہدایت کی، بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں ملاقات کے لیے براستہ موٹروے چکری انٹرچینج پہنچی جہاں راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری نے ان کو اڈیالہ جیل کی جانب جانے سے روک دیا،دو وکیل شمسہ کیانی اور اویس یونس اڈیالہ روڈ گورکھ پور ناقے تک پہنچے پولیس نے آگے جانے سے روک دیا، جبکہ پارٹی سیکرٹری سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ اور محمود خان اچکزئی کو اڈیالہ روڈ کے قریب پرائیوٹ ہاوسنگ سوسائٹی میں ناقے سے اگے نہیں آنے دیا گیا، پارٹی کی چند خواتین کارکن داہگل ناکے پر جمع ہوئی اور نعرے بازی کی، کارکن گرفتاریوں کے ڈر سے عائب رہے۔ادھر رات گئے علیمہ خان نے چکری انٹرچینج پر بہنوں کے ہ۔راہ دھرنا دیدیا اور کہا کہ ملاقات کے بغیر واپس نہیں جائوں گی۔پشاور میں بھی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں ، قلعہ بالا حصار تک ریلی نکالی جائے گی، جبکہ صوابی، مردان اور چارسدہ میں بھی احتجاج کیا گیا۔لوگوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔پشاور میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا قافلہ روک لیا۔عمران خان کی رہائی کیلئے ہونے والی ریلی کی قیادت کیلئے علی امین گنڈاپور حیات آباد ٹول پلازہ پہنچے۔تحریک انصاف کے کارکنوں نے رنگ روڈ پر وزیراعلی کا قافلہ روک لیا اور ان کے کنٹینر کے سامنے سڑک پر بیٹھ گئے۔وزیراعلیٰ کنٹینر پر چڑھے تو کارکنوں نے ڈی چوک جانے کے نعرے لگائے۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں اور پارٹی رہنما ئوں نے کارکنوں کو کنٹینر کے سامنے سے ہٹایا۔پی ٹی آئی کارکنان اور انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کا سیدپور روڈ صدیقی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔پی ٹی آئی کارکنان احتجاج کرتے ہوئے پنڈورہ چونگی تک گئے۔پنڈورہ چنگی پہنچ کر کارکنان نعرے بازی کرتے ہوئے منتشر ہوگئے۔تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی والدہ ریحانہ امتیاز ڈارکو احتجاج کرتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا۔ سندھ کے پچاس سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ کراچی کے ساتوں اضلاع سے ریلیاں حسن اسکوائر پہنچیں، جہاں سیتحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔پرامن احتجاج کے باوجود سندھ کے مختلف شہروں میں پولیس کی جانب سے کارکنوں کو بدترین تشدد کا نشاہ بنایا گیا لاٹھی چارج، شیلنگ اور پکڑ دھکڑ کی گئی، سندھ بھر میں دو سو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کی رہائی اور آئین و قانون کی بالادستی کے مطالبے کے تحت کراچی، حیدر آباد، لاڑکانہ، سکھر، گھوٹکی، ڈھرکی، میرپور ماتھیلو، اوباوڑو، کندھکوٹ، پنو عاقل، قمبر، شہدادکوٹ، سانگھڑ، ٹھہٹھہ،سجاول، نوابشاہ، عمرکوٹ، شہدادپور، کشمور، بدین، مٹیاری، سمیت سندھ کے پچاس سے زائد چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کیے گئے۔رحیم یارخان میں تحریک انصاف قابل ذکراحتجاج کرنے میں ناکام رہی‘ ضلع بھرمیں پولیس نے احتجاج کی کوشش کرنے پر14پارٹی کارکنوں کوحراست میں لے لیا۔دوسری طرف وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے گرفتاریوں کی تردید کی ہے تاہم اْن کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں سٹرکیں بند کرنے پر کچھ افراد کو تحویل میں لیا گیا ہے۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے احتجاج سے 48 گھنٹے قبل بذریعہ ڈاک اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت مانگی، جس کے بعد کوئی فالو اپ بھی نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ پانچ اگست کو کشمیر کی مناسب سے ’یوم استحصال منایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور تحریک انصاف اگر احتجاج کا پلان جمع کرواتی اور انتظامیہ سے رابطے میں رہتی تو سنگجانی میں انھیں جلسے کے لیے مکمل سکیورٹی بھی فراہم کی جاتی