کرپشن کو 100 فیصد ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا‘ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھارہی ہے، کسٹم کلکٹر 40،50 کروڑ روپے رشوت لیتے ہیں، حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہے، اللہ ہم سب کو رزق حلال کمانے کی توفیق دے
ملک اس وقت برے دور سے گزر رہا ہے، آئی ایم ایف کا پریشر ہے لیکن ایک روشنی نظر آنا شروع ہو گئی ہے، سارے اعشاریئے مثبت آ رہے ہیں،ملک کے اندر استحکام کی ضرورت ہے: وزیردفاع کی سیالکوٹ میں پریس کانفرنس
سیالکوٹ(آئی این پی ‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے اگر ملک سے 50 فیصد کرپشن ختم ہو جائے تو ہمیں عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔سیالکوٹ چیمبرز آف کامرس میں صنعت کاروں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کرپشن کو 100 فیصد ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ہمارے ملک کو دیمک کی طرح کھارہی ہے، کسٹم کلکٹر 40،50 کروڑ روپے رشوت لیتے ہیں، حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہے، اللہ ہم سب کو رزق حلال کمانے کی توفیق دے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کو کرپشن کی بیماری کا سامنا ہے، پرویزالہی نے مجھے بتایا ایک بیوروکریٹ نے شادی کی سلامی میں 4 ارب کمائے، ہمیں ملک کے اندر استحکام کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک کنٹینر کو آپریٹ کرنے کے لئے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے، کسی گاڑی کو ٹریک کرنے کے لیے ٹریکر لگایا جاتا ہے، وہ ٹریکر اتار کر دوسری گاڑی میں لگا دیا جاتا ہے، اصل گاڑی کہیں اور بھیج دی جاتی ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت مثبت سمت میں جاری ہے، وقت کے ساتھ ساتھ مسائل حل ہوجائیں گے، ہم صنعتکاروں کے مسائل سمجھتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ان سے قریبی رابطہ رکھا جائے، حکومت صنعتوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا صنعتی برادری کے تمام مسائل سے آگاہ ہوں، ملک اس وقت برے دور سے گزر رہا ہے، آئی ایم ایف کا دبائو ہے لیکن ایک روشنی نظر آنا شروع ہو گئی ہے، سارے اعشاریے مثبت آ رہے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا ہم آہستہ آہستہ مایوسی کے دور سے نکل چکے ہیں لیکن اب بھی بہت سی رکاوٹیں عبور کرنی ہیں، کچھ ایسے فیصلے ہیں جو ہم اپنی مجبوریوں کی وجہ سے نہیں لے پاتے، معاشی مجبوریاں بعض اوقات تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ مثالی ہے، ہمارے دوسرے انڈیکیٹرز بھی مثبت آرہے ہیں، مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آگئی ہے، اس وقت پاکستان کو مختلف چیلینجز کا سامنا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مسائل حل ہوتے جائیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا نان کسٹم گاڑیوں کی بہت بڑی اسمگلنگ ہے، حلال اور حرام کی تمیز ختم ہو گئی ہے۔