غزہ اور لبنان میں قتل عام بند ہونا چاہیے‘پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کمیونیز میں سے ایک ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تربیب فراہم کی گئی
ڈی ایٹ رکن ممالک کیلئے نوجوانوں کو بااختیار بنانا اہمیت کا حامل ہے، سرمایہ کاری اور چھوٹے کاروبار کا رجحان ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے اہم ہے:ڈی 8 ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب
شہباز شریف سے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کی ملاقات ‘دو طرفہ تعاون بڑھانے پراتفاق‘وزیراعظم نے پاکستان کیلئے سہولتوں پر شکریہ ادا کیا
قاہرہ(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے غزہ میں جنگ بندی کے بغیر خطے اور دنیا میں امن ممکن نہیں، غزہ میں جاری بربریت کی مذمت کرتے ہیں۔ڈی 8 ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کمیونیز میں سے ایک ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تربیب فراہم کی گئی ہے۔ نوجوان جدت اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ڈی ایٹ رکن ممالک کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور چھوٹے کاروبار کا رجحان ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سربراہی اجلاس کی میزبانی پر حکومت مصر اور قیادت کو مبارکباد دیتے ہیں، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں، غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی طرف سے قتل عام کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف سے بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قاہرہ میں ڈی 8 سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان موجودہ خیر سگالی اور برادرانہ تعلقات کی حقیقی عکاسی کرتی ہے، ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا، انہوں نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت، عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی شعبوں میں تبادلوں کی خواہش کا اظہار کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے اور کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی ، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی سیکٹر جیسے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔شہباز شریف نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سفر کی سہولت کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا جس میں پاکستان سے آنے والے سامان کے 100فیصد فیزیکل معائنہ کی شرط کو ختم کرنا اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے خصوصی سکیورٹی ڈیسک کو ختم کرنا شامل ہے۔ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستانی ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے پر بنگلا دیش کا شکریہ بھی ادا کیا، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت اور بڑھتے ہوئے اعلیٰ سطحی رابطوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔شہباز شریف اور ڈاکٹر یونس نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا اور باہمی طور پر فائدہ مند ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے عوام سے عوام کے رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت کو تسلیم کیا اور بنگلادیش کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان اور پاکستانی فنکاروں کے ڈھاکہ میں کنسرٹ کے انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا، دونوں فریقین نے D-8 سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔