ویب ڈیسک: غزہ میں اسرائیلی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ تازہ فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 51 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو امداد کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق منگل کی صبح سے اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 8 امداد کے متلاشی افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ دیگر کئی زخمی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی افواج نے امدادی سامان تقسیم کرنے والے مراکز کے قریب بھی فائرنگ کی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
مختلف علاقوں میں حملے
خان یونس: بے گھر افراد کو پناہ دینے والے خیموں پر حملوں میں کم از کم 8 افراد شہید۔
دیر البلح (وسطی غزہ): ایک خیمے پر بمباری سے 4 فلسطینی جاں بحق۔
انسانی المیہ
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جاری تقریباً دو سالہ نسل کش جنگ میں اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں کم از کم 18 ہزار 885 بچے بھی شامل ہیں۔
جنگ بندی کی تجویز
ادھر سفارتی محاذ پر یہ پیش رفت سامنے آئی ہے کہ حماس نے قطر اور مصر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ تاہم اسرائیلی حکومت کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔