ویب ڈیسک: کراچی میں گزشتہ رات اور صبح کے اوقات میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر بھر کا نظام درہم برہم کردیا۔
بارش کے بعد موسم تو خوشگوار ہوگیا تاہم شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق دن بھر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا اور درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے 22 اگست تک سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں شدید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری کردیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون کے طاقتور سلسلے ملک میں داخل ہو رہے ہیں جن کا زیادہ اثر جنوبی حصوں پر ہوگا۔
شہر میں تباہی اور ہلاکتیں
تفصیلات کے مطابق کراچی میں بارش کے باعث مختلف حادثات اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں 11 افراد جاں بحق ہوگئے۔ متعدد شہری رات بھر سڑکوں پر ہی پھنسے رہے اور کئی نے اپنی گاڑیاں سڑکوں پر چھوڑ کر پیدل گھروں کا رخ کیا۔
ریڈ زون 14 گھنٹے بعد بھی پانی میں ڈوبا
بارش کے بعد شہر کی کئی اہم شاہراہیں پانی میں ڈوبی رہیں۔ ایوان صدر اور ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ پر 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود پانی نہ نکالا جا سکا۔ ضیاء الدین احمد روڈ کا ایک ٹریک آج بھی ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ شاہین کمپلیکس سے آرٹس کونسل تک برساتی پانی موجود ہے۔ گورنر ہاؤس کے اطراف بھی بارش کا پانی جمع رہا۔
بجلی کی طویل بندش
بارش کے باعث شہر کے 550 فیڈرز ٹرپ کرگئے جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں 16 گھنٹے سے زائد بجلی بند رہی۔ شہری گرمی اور حبس میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق 2100 میں سے 1550 فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بحال کردی گئی ہے، باقی پر کام جاری ہے۔
عام تعطیل کا اعلان
شہر میں تباہ کن بارشوں کے بعد انتظامیہ نے آج عام تعطیل کا اعلان کیا ہے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل بارشیں منگل کی نسبت زیادہ شدت کے ساتھ ہوسکتی ہیں۔شہر کے بیشتر انڈر پاسز اور مرکزی شاہراہوں پر اب بھی پانی جمع ہے جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، جبکہ شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔