اسرائیلی دفاعی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں باقاعدہ پالیسی کے تحت عمارتوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہے، اور ہفتے کی شام چار قصبوں میں متعدد گھروں کو دھماکوں سے تباہ کیا گیا۔اسرائیلی فوجی کمانڈروں کا دعویٰ ہے کہ رہائشی مکانات، عوامی عمارتیں اور اسکول منہدم کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کو صاف کیا جا سکے، یہ علاقہ لبنانی سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوج کے قائم کردہ بفر زون کا حصہ ہے۔اسرائیل کا موقف ہے کہ حزب اللّٰہ شہری انفرااسٹکچر کو اسلحہ ذخیرہ کرنے یا سرنگیں بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے، اور کارروائیاں صرف حزب اللّٰہ کے بنیادی انفرااسٹکچر تک محدود ہیں۔لیکن رپورٹ کے مطابق، زمینی صورتحال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے، اور مبینہ طور پر تمام عمارتیں، حتیٰ کہ شہری علاقوں، مکمل طور پر تباہ کی جا رہی ہیں۔یہ مسمار کرنے کا عمل ٹھیکیداروں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، جنہیں عمارتوں کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی غزہ میں شہری انفرااسٹکچر کی مسماری جیسی ہے، اور اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں لبنانی شہریوں کی واپسی کو روکنا ہے۔گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بھی اس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرحد کے قریب دیہات کے تمام مکانات کو مسمار کیا جائے گا تاکہ سرحد کے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔