مذاکرات اور امریکی صدر کی دھمکیاں، دونوں میں تضاد باعث حیرت ہیں: مولانا فضل الرحمن

مذاکرات اور امریکی صدر کی دھمکیاں، دونوں میں تضاد باعث حیرت ہیں: مولانا فضل الرحمن

سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کل سے پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، جس میں پاکستان ایک عالمی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے اس موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے، لیکن امریکی صدر کی دھمکیاں اور اس کا بیان سمجھ سے بالا تر ہے۔  انہوں نے معروف شاعر سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکمرانوں کی نااہلی اور غلط حکمت عملی کے باعث سرحدیں اور کاروباری راستے بند ہو چکے ہیں، جس سے چین جیسا قریبی دوست ملک بھی سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔  مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مصنوعی نظام کو مسترد کرتے ہوئے مجلسِ شوریٰ کے اسلامی نظام کی طرف رجوع کرنا ہوگا، کیونکہ جمعیت علمائے اسلام ہی وہ واحد قوت ہے جو ملک کو شفاف نظام دے سکتی ہے۔  
انہوں نے بھارت کو وارننگ دی کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں جے یو آئی کے کارکن فوج کے شانہ بشانہ سب سے پہلے میدان میں ہوں گے۔ سید سلمان گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے درویش صفت لوگوں کے جانے سے ایک دنیا یتیم ہو جاتی ہے۔  خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ "جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی نظریاتی دفاعی لائن ہے"، جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ سید سلمان گیلانی کی زندگی ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے وقف تھی۔ دیگر رہنماؤں نے بھی مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ ملک و قوم سلامت رہے۔