ایران میں اقتدار کی تبدیلی،امکانات کیا ہیں؟

سید منیر حسین گیلانی
 دنیا میں اس وقت جو افرا تفری، انتشار اور بدامنی پھیلی ہوئی ہے ، اس کے پیچھے دنیا کی بڑی طاقتوں کے کرتادھرتا ہیں،جو اقتدار میں آنے سے پہلے اپنی انتخابی مہم میں عوام کو باور کراتے نہیں تھکتے تھے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد دنیا میںجاری جنگوں کا خاتمہ کریںگے۔روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ساتھ یورپی ممالک سے لے کر فلسطین تک کے مسائل کو حل کرنے کی بات کرتے تھے۔ لیکن شومئی قسمت جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آگئے تو جنگوں کے خاتمے کی بجائے، انہوں نے جنگ کے میدان کو وسیع تر کردیا، تاکہ اپنے مفادات حاصل کرسکیں۔ ٹرمپ نے فلسطین پر گرگٹ کی طرح رنگ بدلے، کبھی مذاکرات کی بات کرتا تو کبھی اسرائیل کے دفاع میں بیانات دیتا۔ کبھی نیتن یاہو کو ڈانڈتا تو کبھی اسرائیلی پارلیمنٹ میں کہتا کہ میں حماس کے خاتمے کے لئے اسرائیل کو جدید اسلحہ فراہم کروں گا۔ 77 سال سے حل طلب مسئلہ فلسطین مزیدشدت اختیار کرگیا ہے۔ امریکی صدر دہشت گردانہ سوچ کو غزہ کے علاقے میںپروان چڑھا کر اسرائیل کو اسلحہ اور وسائل دے کر انسانیت کا قتل کرکے اورانسانی آبادیوں کو تہہ و بالا کرتے ہوئے فخر یہ طور پر کہتا ہے کہ دیکھو میں جنگیں ختم کرنے آیا ہوں اور جنگیں ختم کر رہا ہوں جس میں وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چند دنوں کی فضائی جھڑپوں کو رکوا نے کا سہرا اپنے سر باندھ رہا ہے ،کسی کو کیا پتہ ہے کہ اس کے ذہن میں مکاری اور توسیع پسندانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس میں وینزویلا کی حکومت کے خلاف جس طریقے سے آپریشن کیا گیا ، ملک کے صدر اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ لے جایا گیا اور اب ان پر مقدمہ چلا یا جارہا ہے۔وینزویلا کی اس وقت کی صورت حال کے باعث چین اور روس ،ایران کے قریب تر ہو گئے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کو ناگوار گزرا۔ وینزویلا میں افراتفری پیدا کرنے کے بعد اسرائیل کی ایماپر ایران کے اندر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، جو قابو سے باہر ہوں۔اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔پھرمصنوعی ذہانت Aritificial Intelligence) ( کی بنیاد پر فیک نیوز کے ذریعے بے بنیاد تصاویراور وڈیوز کو پھیلایا گیا کہ ایران کے اندر افراتفری پیدا ہوچکی ہے، جس کا مقصد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو اقتدار سے نکالنا اور اپنے من پسند حکمران یعنی1979ء￿ میں امام خمینی کی قیاد ت میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے علیحدہ کئے گئے شاہ ایران کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی کو ایران کے تخت پر بٹھانا امریکہ اور اسرائیل اور یورپی ممالک کی پرانی خواہش ہے اور یہ کوشش ہر بار کی گئی مگر ناکام رہے۔ان کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ 12 دن کی جنگ کے دوران بھی سوشل میڈیااور استعماری میڈیاپر خبریں 
دی گئیں کہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے امریکہ سے آرہے ہیں۔مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ مہنگائی کی آڑ میں بد امنی پھیلا کر رجیم چینج کا جونعرہ دیا گیا ، اس میں متعدد افسوسناک واقعات رونما ہوچکے ہیں ،مساجد ، مزارات ، بینکوں،ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔ معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا۔ اس بدامنی میں امریکی اور اسرائیلی میڈیا کی جھوٹی خبروں سے پاکستانی میڈیا بھی متاثر ہو ااورآیت اللہ خامنہ ای کے روس فرار ہونے کی خبریں پھیلائی گئیں۔بعد میں میڈیا نے اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی اور خبروں کو ویب سائیٹ سے ہٹا دیا۔حیرت کی بات ہے کہ ہمارا میڈیا مغربی پراپیگنڈہ سے متاثر ہوکر خبریں نشر کرتا ہے جس پر کچھ تکفیری عناصر بھی بغلیں بجاتے دکھائی دیے کہ ایران آگ میں جل رہا ہے، مگر ہمارا میڈیا اسلامی جمہوری ایران کے ذرائع سے لی گئی خبریں چلانے میں جھجک محسوس کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیرونی طاقتوں کے اشارے اور صیہونی حکومت کی چال بازیوں کی وجہ سے ایران کے اندر امن و امان کا مسئلہ پیدا تو ہواہے، لیکن اسلام کے سیاسی نظام ’’ولایت فقیہہ ‘ ‘ کا خاتمہ ممکن نظر آرہا اور نہ ہی اسے کوئی خطرہ ہے۔لیکن امریکہ ، اسرائیل اور یورپی ممالک جس بھونڈے انداز سے شرپسند عناصر پر افراتفری پھیلانے کے لئے سرمایہ کاری کر رہے ہیں ، مجھے قوی امید ہے کہ وہ اپنے مقاصدمیں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان شاء￿ اللہ،لاکھوں شہدا کے خون سے رونما ہونے والا اسلامی انقلاب برقرار رہے گا۔ یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے رونما ہونے کے بعدسے اسلام دشمن قوتیں سر توڑ کوشش کر رہی ہیں کہ ایران کا اسلامی نظام حکومت بدل کر ایک آزاد خیال سیکولر حکومت قائم کرکے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔ مجھے ایران کو بڑا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے اور میں اس نظام کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا ہوں۔دنیا نے دیکھا کہ انقلاب کے ابتدائی دنوں میںایرانی پارلیمنٹ کو اڑا دیا گیا ،عراق کو شہہ دے کرایران پر حملہ کروایا گیا اورپھرایرانی علاقے طبس میں امریکی ہیلی کاپٹر اتار کر قیادت کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ بھی ناکام ہوئی۔ہیلی کاپٹر تباہ ہوگیا۔ اگر کچھ قوتیں سمجھتی ہیں کہ ایرانی قوم اور ایرانی نظام، مہنگا ئی کے خلاف مظاہروں سے فزدہ ہو جائے گا تو وہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ میں یہ کوئی جذباتی بات نہیں کررہا ، بلکہ تربیت کی بات کررہا ہوں کہ جس قوم نے ہزاروں سال پہلے کربلا دیکھا ہو،اوروہ کربلا کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتی ہووہ موت سے خوفزدہ ہے اور نہ ہی ان بڑی طاقتوں کی گیدڑبھبکیوں سے ڈرتی ہے۔ ہاں معاشی مشکلات ضرور ہیں ،وہ بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کی اقتصادی پابندی کی وجہ سے قوم پر مسلط ہیں اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مشکلات عارضی ہیں ، پھر بڑی استعماری طاقتوں کے حکمران ایک اور ناکامی کا منہ دیکھتے ہوئے شرمندہ ہوں گے۔ان شا ء￿ اللہ۔۔END۔۔۔