آنے والے دنوں کے سیاسی امکانات

         سردار حیدر احمد علی 
پاکستانی سیاست کی تاریخ میں کچھ شہر صرف جغرافیہ نہیں رہتے، وہ سیاسی علامت بن جاتے ہیں۔ اسلام آباد اقتدار کی علامت ہے، لاہور سیاسی مزاج اور عوامی سیاست کا مرکز سمجھا جاتا ہے، کراچی معاشی طاقت کی نمائندگی کرتا ہے، مگر لندن کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ لندن طویل عرصے سے پاکستانی سیاست دانوں کی ملاقاتوں، مشاورتوں، اختلافات کے تصفیے اور مستقبل کی حکمت عملی بنانے کے لیے ایک اہم مقام رہا ہے۔لندن میں ہونے والی ہر ملاقات کو سازش کہنا بھی درست نہیں اور ہر ملاقات کو معمولی سمجھ لینا بھی دانش مندی نہیں۔ پاکستانی سیاست میں لندن کی بیٹھک کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ کبھی یہاں ہونے والی گفتگو نے سیاسی اتحادوں کو جنم دیا، کبھی حکومتوں کے مستقبل پر سوال اٹھائے گئے اور کبھی ایسے فیصلوں کی بنیاد رکھی گئی جن کے اثرات ہزاروں میل دور پاکستان میں محسوس ہوئے۔لندن کی’’importance’’ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ برطانیہ میں پاکستانی سیاسی اشرافیہ کی ایک بڑی تعداد کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ کاروباری خاندان، سیاسی رہنما، سابق حکمران، تارکین وطن اور پارٹی کے اہم کارکن یہاں آباد رہے ہیں۔ چنانچہ جب پاکستان میں سیاسی حالات پیچیدہ ہوئے تو لندن اکثر ایک نسبتاً ‘‘secure’’ اور غیر رسمی مشاورتی مقام بن گیا۔پاکستان کی سیاسی’’history’’ میں لندن کا ذکر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے بھی مختلف حوالوں سے سامنے آتا ہے، لیکن بعد کی دہائیوں میں اس شہر کی سیاسی اہمیت خاص طور پر اس وقت بڑھی جب پاکستانی سیاست کے بڑے خاندانوں اور جماعتوں کے قائدین نے یہاں مستقل یا عارضی قیام شروع کیا۔
1980ء￿  اور 1990ء￿  کی دہائیوں میں پاکستان کی سیاست مسلسل بحرانوں سے گزرتی رہی۔ حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، سیاسی جماعتوں میں اتحاد اور اختلاف کا سلسلہ جاری رہا۔ ایسے ماحول میں بیرونِ ملک ملاقاتیں سیاسی رابطوں کا ایک اہم ذریعہ بنیں۔ لندن ان ‘‘meetings’’ کے لیے اس لیے بھی موزوں تھا کہ یہاں پاکستانی سیاسی خاندانوں کے لیے سماجی اور کاروباری حلقے پہلے سے موجود تھے۔پھر وہ دور آیا جب بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پاکستانی سیاست کے دو بڑے مراکز بن گئے۔ دونوں کے درمیان سیاسی کشمکش نے نوے کی دہائی کی سیاست کو تشکیل دیا۔ بعد میں حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ دونوں جماعتوں کے قائدین کے درمیان مفاہمت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ لندن میں ہونے والی ملاقاتوں اور مشاورتوں نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔چارٹر آف ڈیموکریسی جس کو  ‘‘COD’’ بھی کہا جاتا  ہے اس پر لندن میں دستخط کیے گئے تھے۔اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال 2006ء￿  کا چارٹر آف ڈیموکریسی تھا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے اس معاہدے نے پاکستان کی سیاست میں مفاہمت اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کی۔ اس معاہدے کے پیچھے کئی ملاقاتیں، مذاکرات اور سیاسی مشاورتیں تھیں، اور لندن اس پورے عمل کے اہم مقامات میں شامل رہا‘یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے: سیاست صرف پارلیمنٹ کے فلور پر نہیں ہوتی۔ سیاست کبھی ڈرائنگ روم میں ہوتی ہے، کبھی فون کال پر، کبھی کسی ریسٹورنٹ کے نجی کمرے میں اور کبھی بیرون ملک کسی شہر میں بیٹھ کر۔ لندن کی بیٹھک اسی غیر رسمی سیاست کی علامت بن چکی ہے۔
2007ء￿  کے بعد پاکستان واپس آنے والی سیاسی سرگرمیوں نے ملکی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی، جنرل پرویز مشرف کا سیاسی کردار، انتخابات اور بعد کے حالات نے لندن کو ایک مرتبہ پھر پاکستانی سیاسی گفتگو کا اہم مرکز بنا دیا۔نواز شریف کے لیے بھی لندن ایک اہم سیاسی اور خاندانی مرکز رہا۔ ان کے خاندان کی لندن میں موجودگی کے باعث پاکستان کی سیاست سے متعلق کئی اہم ملاقاتیں اور مشاورتیں وہاں ہوتی رہیں۔ پارٹی رہنما پاکستان سے لندن جاتے، ملاقاتیں کرتے، مشاورت ہوتی اور پھر فیصلوں کے اثرات پاکستانی سیاست میں نظر آتے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک اصطلاح کو مقبول کر دیا: ‘‘London Plan ’’۔
یہ اصطلاح کبھی طنزیہ انداز میں استعمال ہوئی، کبھی سنجیدگی سے اور کبھی محض سیاسی الزام کے طور پر۔ لیکن لندن پلان کا تصور اس حقیقت سے پیدا ہوا کہ پاکستانی سیاست کے کئی اہم کردار ایک ہی وقت میں لندن میں موجود ہوتے تھے اور وہاں ہونے والی ملاقاتیں پاکستان میں سیاسی قیاس آرائیوں کو جنم دیتی تھیں۔
2013ء￿  کے بعد مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران بھی لندن کی سیاسی سرگرمیاں خبروں میں رہیں۔ پارٹی قیادت، حکومتی معاملات، خاندانی مسائل اور سیاسی حکمت عملی پر ہونے والی مشاورتیں لندن میں بھی ہوتی رہیں۔ پاناما کیس، سپریم کورٹ کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد تو لندن کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی۔نواز شریف کی لندن میں موجودگی نے پاکستانی سیاست میں ایک مستقل سوال پیدا کر دیا: پاکستان کے بڑے سیاسی فیصلے آخر کہاں ہوتے ہیں؟کیا فیصلے صرف اسلام آباد میں ہوتے ہیں؟ یا لاہور، کراچی اور لندن کے درمیان چلنے والی سیاسی گفتگو بھی ان فیصلوں کو متاثر کرتی ہے؟اس سوال کا قطعی جواب شاید کبھی نہ ملے، لیکن پاکستانی سیاست کی تاریخ یہ ضرور بتاتی ہے کہ غیر رسمی رابطے ہمیشہ اہم رہے ہیں۔عمران خان کے دور میں بھی لندن کی سیاست ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ سیاسی تقسیم بڑھنے کے ساتھ بیرون ملک ہونے والی ملاقاتوں اور رابطوں پر توجہ مزید بڑھ گئی۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے پر پسِ پردہ منصوبہ بندی اور بیرونی رابطوں کے الزامات لگاتے رہے۔ لندن کبھی کسی ایک جماعت کا شہر نہیں رہا؛ جو سیاسی گروہ یہاں موجود ہو، اسے اپنے نقط? نظر کے اظہار اور رابطوں کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم دستیاب رہتا ہے۔لندن کی ایک اور خاص بات برطانوی سیاسی اور قانونی نظام سے اس کا تعلق ہے۔ پاکستانی سیاست دانوں کے لیے لندن صرف سیاسی ملاقاتوں کی جگہ نہیں بلکہ قانونی، مالی، کاروباری اور میڈیا کے کئی اہم مراکز کا شہر بھی ہے۔ چنانچہ ایک ہی سفر میں سیاسی مشاورت، قانونی معاملات، کاروباری ملاقاتیں اور میڈیا سرگرمیاں سب ممکن ہو جاتی ہیں۔اسی لیے لندن کی بیٹھک کو سمجھنے کے لیے صرف سیاست نہیں بلکہ پاکستانی اشرافیہ کے عالمی روابط کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

آج جب بھی کوئی بڑا پاکستانی سیاسی رہنما لندن پہنچتا ہے، سیاسی حلقوں میں سوال اٹھتا ہے کہ ملاقاتیں کن سے ہوں گی؟ کون لندن جائے گا؟ کون واپس آئے گا؟ کیا کوئی نیا اتحاد بن رہا ہے؟ کیا کوئی پرانا اختلاف ختم ہونے والا ہے؟ کیا انتخابات کے لیے نئی حکمت عملی بن رہی ہے؟لیکن تاریخ ہمیں ایک احتیاط بھی سکھاتی ہے۔ ہر لندن ملاقات کو ‘‘پلان’’ سمجھ لینا درست نہیں۔ سیاست میں ملاقات کا مطلب ہمیشہ معاہدہ نہیں ہوتا، اور مشاورت کا مطلب ہمیشہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ کئی بار سیاسی رہنما صرف صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ملتے ہیں۔

اصل اہمیت ملاقات کے بعد سامنے آنے والے فیصلے کی ہوتی ہے۔پاکستانی سیاست میں لندن کی بیٹھک شاید اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ یہاں فاصلے بہت ہیں مگر سیاسی رابطے بہت قریب۔ اسلام آباد سے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ پاکستان کے سیاسی مستقبل پر گفتگو کرتے ہیں اور چند گھنٹوں بعد وہی گفتگو ٹی وی اسکرینوں، اخبارات اور سوشل میڈیا پر بحث بن جاتی ہے۔یہ سلسلہ شاید مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔کیونکہ پاکستان کی سیاست میں حکومتیں بدل سکتی ہیں، جماعتوں کے نام بدل سکتے ہیں، سیاسی اتحاد بن اور ٹوٹ سکتے ہیں، مگر سیاسی مشاورت کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ اور جب مشاورت کے لیے کوئی محفوظ، عالمی اور پاکستانی سیاسی حلقوں سے جڑا ہوا شہر موجود ہو تو لندن کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔آخرکار لندن کی بیٹھک کی اصل کہانی عمارتوں، ہوٹلوں یا ریسٹورنٹس کی نہیں، رابطوں کی کہانی ہے۔
یہ ان ملاقاتوں کی کہانی ہے جن میں کبھی اختلاف ختم کرنے کی کوشش ہوئی، کبھی اقتدار کی حکمت عملی بنی، کبھی مستقبل کے امکانات پر غور ہوا اور کبھی صرف یہ طے کیا گیا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے۔پاکستانی سیاست میں شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ‘‘لندن میں کون بیٹھا ہے؟’’
اصل سوال یہ ہے:لندن کی اس بیٹھک سے پاکستان میں کیا بدلنے والا ہے؟اور اس سوال کا جواب ہمیشہ بیٹھک ختم ہونے کے بعد ہی ملتا ہے