احمدخان اچکزئی
محترم قارئین۔ قوم کی مثال ایک "جسدِ واحدہ" کی ہے، جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے جسم کو بے چین کر دیتی ہے۔ اس آفاقی سچائی کو سمجھنے کے لیے ایک تمثیلی قصہ نہایت سبق آموز ہے۔ ایک گھر میں بزرگ میاں بیوی کے ساتھ ایک کبوتر، ایک بکری اور ایک گائے رہتے تھے۔ اچانک گھر میں چوہے کی آمد ہوئی، جسے پکڑنے کے لیے میاں بیوی نے تلکہ (چوہے دانی) لانے کا فیصلہ کیا۔ چوہا خوفزدہ ہو کر باری باری کبوتر، بکری اور گائے کے پاس گیا اور دہائی دی کہ میری جان خطرے میں ہے، میری مدد کرو۔ مگر سب نے باری باری یہ کہہ کر اسے ٹال دیا کہ "یہ تمہارا مسئلہ ہے، ہمارا اس سے کیا لینا دینا؟" مایوس ہو کر چوہا گھر چھوڑ گیا۔ اسی رات تلکہ میں چوہے کے بجائے ایک زہریلا سانپ پھنس گیا، جس کی دم کو چوہا سمجھ کر جب بڑھیا نے پکڑنے کی کوشش کی تو سانپ نے اسے ڈس لیا۔ علاج کے لیے طبیب نے کبوتر کی یخنی تجویز کی تو کبوتر ذبح ہوا۔ عیادت کے لیے آنے والے مہمانوں کی تواضع کی خاطر بکری کی قربانی دینی پڑی اور جب زہر کے اثر سے عورت کا انتقال ہوا تو جنازے کے شرکاء کے کھانے کے لیے آخری اثاثہ یعنی گائے کو بھی ذبح کرنا پڑا۔ یہ قصہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی وجود بے مقصد نہیں اور ہماری بقاء ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ہمیں ہر ذی ہوش کو اس کا مقام دینا ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو کسی نہ کسی اہم مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔عمیق نظر سے دیکھا جائے تو سانپ اور چوہے جنہیں ہم اکثر دشمن یا بے کار سمجھتے ہیں، ہمارے نظامِ قدرت میں نہایت اہم "ماحولیاتی رول" ادا کرتے ہیں۔ چوہے، جو بظاہر نقصان دہ لگتے ہیں، دراصل فوڈ چین کی بنیاد ہیں۔ وہ سانپ، الو، بلی اور عقاب جیسے شکاریوں کی خوراک بن کر ماحولیاتی توازن برقرار رکھتے ہیں، بیجوں کو پھیلا کر جنگلات اور نباتات کے اگنے میں مدد دیتے ہیں اور بل کھود کر زمین کی مٹی کو ہوا دار اور زرخیز بناتے ہیں۔ حتیٰ کہ طبی سائنس میں 95 فیصد ریسرچ انہی کے مرہونِ منت ہے، یہاں تک کہ کرونا ویکسین بھی انہی کے ذریعے انسانوں تک پہنچی۔ دوسری جانب، سانپ "فطرت کے چوکیدار" ہیں۔ ایک سانپ سالانہ سینکڑوں چوہوں کا شکار کر کے قدرتی "پیسٹ کنٹرول" کا کام کرتا ہے، جس سے فصلیں تباہ ہونے اور طاعون جیسی وبائی امراض پھیلنے سے بچی رہتی ہیں۔ سانپ کا زہر بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی ادویات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔
ابنِ خلدون کے عمرانی نظریات کے مطابق، فطرت کے نظام میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ سانپ اور چوہا بظاہر ایک دوسرے کے دشمن نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں۔ یہی وہ "لویان" (انحصارِ باہمی) ہے جس پر کائنات کی بنیاد ہے۔ اگر ہم نظام کے ایک حصے کو بھی غیر ضروری سمجھ کر ختم کریں گے تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ چوہے خوراک اور مٹی کی زرخیزی کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ سانپ چوہوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا
خاتمہ بھی انسانی بقاء اور عالمی ماحول کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کا استحکام باہمی احترام اور ایک دوسرے کی اہمیت تسلیم کرنے میں ہی پوشیدہ ہے۔