اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی بحالی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں: ایران

اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کی بحالی کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں: ایران

تہران: ایران کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے حوالے سے موجود مسائل کے حل اور معاہدے کی طرف واپسی کے لیے سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ثالثی کا عمل جاری ہے۔

ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان علی زینیوند نے ایک نیوز بریفنگ میں کہا کہ تہران معاہدے سے متعلق معاملات کو حل کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے سفارتی ذرائع سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سفارتی ثالثی بھی اس عمل کا حصہ ہے۔علی زینیوند نے کہا کہ ایران کی توقع ہے کہ معاہدے کا دوسرا فریق بھی اس میں کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل کرے گا۔ ان کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی اپنی یقین دہانیوں پر قائم رہنا ہوگا۔ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایران کی اعلیٰ سطح پر منظوری حاصل ہے اور اسے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے منظور کیا تھا، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے بھی اس کی توثیق کی گئی۔ ایران اسے ریاستی سطح پر ایک باضابطہ فیصلہ قرار دیتا ہے۔ترجمان کے مطابق ایران کی جانب سے فعال سفارت کاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ انہوں نے صدر مسعود پزشکیان کی شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس اجلاسوں میں شرکت اور مختلف فریقوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کو اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا۔اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔

 پاکستان کے مطابق اس معاہدے نے فریقین کے درمیان مذاکرات اور پائیدار حل کی جانب واپسی کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا تھا۔اس سے قبل 31 اگست کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا تھا کہ ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے امریکا کو بھی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔پاکستان نے بھی حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتی ہے۔تازہ ایرانی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اب بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے معاہدے کے فریم ورک کو دوبارہ فعال کرنے کا راستہ کھلا رکھے ہوئے ہے، تاہم اس کے مؤقف کے مطابق آئندہ پیش رفت کا انحصار فریقین کی جانب سے معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد اور جاری سفارتی کوششوں پر ہوگا۔