پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اسپنر اور ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے سابق چیف سلیکٹر توصیف احمد کی جانب سے شاداب خان کی سلیکشن میں مبینہ اثراندازی کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں مبینہ ریکارڈنگ عوام کے سامنے لانے کا چیلنج کر دیا ہے۔
یہ معاملہ سابق پاکستانی بیٹر فواد عالم کے پوڈکاسٹ میں توصیف احمد کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جہاں سابق چیف سلیکٹر نے پاکستان کرکٹ میں سلیکشن کے دوران مبینہ جانبداری پر گفتگو کی۔ توصیف احمد نے دعویٰ کیا کہ ثقلین مشتاق شاداب خان کے معاملے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور انہیں فون کرکے شاداب کے معاملے میں نرمی برتنے کے لیے کہا گیا تھا۔پوڈکاسٹ کے دوران فواد عالم نے جب توصیف احمد سے پوچھا کہ کیا وہ ثقلین مشتاق اور شاداب خان کی بات کر رہے ہیں تو سابق چیف سلیکٹر نے اس کی تصدیق کی۔ توصیف احمد نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اس حوالے سے ایک مبینہ وائس ریکارڈنگ بھی موجود ہے، تاہم انہوں نے اسے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔توصیف احمد کے مطابق انہیں شاداب خان کی سلیکشن کے معاملے میں نرمی اختیار کرنے کا کہا گیا تھا، جبکہ انہوں نے سلیکشن کے عمل میں بعض کھلاڑیوں کو ضرورت سے زیادہ ترجیح دیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے بیان کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آگیا۔
دوسری جانب ثقلین مشتاق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر توصیف احمد کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس ان کی آواز یا پیغام کی ریکارڈنگ موجود ہے تو اسے عوام کے سامنے جاری کیا جائے۔ ثقلین نے کہا کہ انہوں نے توصیف احمد کو ایک سینئر کی حیثیت سے احترام کے ساتھ فون کیا تھا اور ان کے مطابق اس گفتگو کو مختلف انداز میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ثقلین مشتاق نے مزید کہا کہ ان کے پاس بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے اور اگر توصیف احمد اپنی ریکارڈنگ جاری کرتے ہیں تو وہ بھی اپنا ریکارڈ سامنے لانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح عوام خود گفتگو سن کر حقیقت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔تاحال دونوں جانب سے زیرِ بحث مبینہ ریکارڈنگ عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی، اس لیے ان الزامات اور دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ معاملہ فی الحال دونوں سابق کرکٹرز کے بیانات تک محدود ہے۔
شاداب خان پاکستان کے اہم آل راؤنڈرز میں شمار ہوتے رہے ہیں، جبکہ ثقلین مشتاق اور توصیف احمد دونوں پاکستان کرکٹ میں اہم ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ دونوں کے درمیان سامنے آنے والے اس اختلاف نے قومی ٹیم کی سلیکشن میں سابق کھلاڑیوں اور عہدیداروں کے ممکنہ کردار سے متعلق بحث کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔