لاہور میں سرکاری نرخ نامہ نظرانداز، سبزیاں اور پھل من مانی قیمتوں پر فروخت

لاہور میں سرکاری نرخ نامہ نظرانداز، سبزیاں اور پھل من مانی قیمتوں پر فروخت

لاہور کی اوپن مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی سرکاری قیمتوں اور عملی فروخت کے درمیان نمایاں فرق برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ رہی ہیں۔

تازہ مارکیٹ رپورٹ میں متعدد سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں سرکاری نرخ سے خاصی زائد ریکارڈ کی گئی ہیں۔مارکیٹ میں آلو کی سرکاری قیمت 30 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم یہ 50 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ پیاز 170 روپے کے بجائے 250 روپے، ٹماٹر 160 روپے کے مقابلے میں 290 روپے اور لہسن 280 روپے کے بجائے 390 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔اسی طرح ادرک کی سرکاری قیمت 320 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن بازار میں اس کے 400 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ بھنڈی 180 کے بجائے 250 روپے، کریلا 190 کے مقابلے میں 260 روپے، ٹینڈے 170 کے بجائے 250 روپے جبکہ اروی 70 روپے کی سرکاری قیمت کے مقابلے میں 120 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔شملہ مرچ کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 290 روپے میں دستیاب ہے۔ سبزیوں کی قیمتوں میں یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرکاری نرخ نامے کے باوجود صارفین کو مقررہ قیمت پر اشیا کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی لاہور کی مارکیٹ میں مختلف سبزیوں کی سرکاری اور اوپن مارکیٹ قیمتوں میں فرق رپورٹ ہوا ہے۔

پھلوں کی قیمتوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ انگور کی سرکاری قیمت 560 روپے فی کلو کے مقابلے میں 700 روپے، آڑو 300 کے بجائے 380 روپے، سیب 350 کے بجائے 400 روپے جبکہ امرود 180 روپے کی سرکاری قیمت کے مقابلے میں 290 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔کیلے کی سرکاری قیمت 180 روپے فی درجن مقرر ہے، تاہم بازار میں شہریوں سے 200 روپے فی درجن وصول کیے جا رہے ہیں۔

سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمت میں اس نمایاں فرق کے باعث شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے کے لیے اضافی رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ نامے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے، مارکیٹوں میں نگرانی کا نظام بہتر کرے اور مقررہ نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ حالیہ رپورٹس میں بھی شہریوں کی جانب سے سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔