پی ٹی آئی کے 27 ستمبر اسلام آباد مارچ کا پلان سامنے آگیا، خیبرپختونخوا میں 12 مقامات پر دھرنوں کی تیاری

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر اسلام آباد مارچ کا پلان سامنے آگیا، خیبرپختونخوا میں 12 مقامات پر دھرنوں کی تیاری

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں مجوزہ حکمت عملی اور دھرنوں کے مقامات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے مرحلہ وار پیش قدمی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں موٹروے اور جی ٹی روڈ کے متعدد مقامات پر دھرنے اور کیمپ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پشاور، خیبر، نوشہرہ اور اکوڑہ خٹک کی جانب سے اٹک پل کے اطراف دھرنا دینے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ ملاکنڈ، صوابی، مردان اور چارسدہ میں موٹروے کے مختلف مقامات پر کارکنوں کو متحرک کرنے کا منصوبہ ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق جنوبی اضلاع میں خوشحال گڑھ کے مقام پر دھرنا دینے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہری پور میں حطار، خانپور، جھاری کس اور مکھنیال سمیت ہزارہ موٹروے پر بھی کیمپ لگانے کے مقامات تجویز کیے گئے ہیں۔ایبٹ آباد میں باریان اور کوہالہ جبکہ صوابی میں ٹوپی اور ایم ون موٹروے کے مقامات پر کیمپ لگانے کا منصوبہ بتایا گیا ہے۔ نوشہرہ میں خیرآباد کنڈ، اٹک پل، لکی مروت میں کنڈل اور کوہاٹ میں خوشحال گڑھ کو بھی دھرنوں یا کیمپوں کے لیے مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کی جانب سے تمام ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو کیمپوں میں شرکت اور انتظامات میں معاونت کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ہر ضلع کی سطح پر کیمپ میں آنے والے کارکنوں کے لیے خوراک، پینے کے پانی اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا جائے گا۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا فیصلہ برقرار ہے، جبکہ کیمپ قائم کرنے کا مقصد کارکنوں کو سہولیات فراہم کرنا اور مارچ کے دوران مختلف مقامات پر قیام کا انتظام کرنا ہے۔ منصوبے کے مطابق مارچ کے راستے میں رکاوٹ پیش آنے کی صورت میں متعلقہ مقام پر دھرنا دینے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پشاور سے مارچ کی قیادت کریں گے۔ وہ اس سے قبل بھی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ برقرار رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ سے متعلق مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے جانب سے عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضے کے حوالے سے قانونی حدود واضح کی ہیں، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی مارچ کے شرکا کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔