آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے، جہاں ایک اور آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق واقعے کے بعد ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔رپورٹس کے مطابق ٹینکر کو نامعلوم نوعیت کے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے کے نتیجے میں جہاز پر آگ لگی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سمندر میں تیل کے رساؤ کی بھی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں متعدد آئل ٹینکروں سے متعلق حملوں اور واقعات کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ٹوگو کے پرچم والے ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران نشانہ بنایا اور روک دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کے سکیورٹی واقعے سے تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی شپنگ کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ UKMTO خطے میں بحری جہازوں کو سکیورٹی سے متعلق معلومات اور واقعات کی رپورٹس فراہم کرنے والا اہم ادارہ ہے۔
سعودی عرب میں بھی ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر الرٹ
دوسری جانب سعودی عرب میں بھی ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیشِ نظر دارالحکومت ریاض اور شہر الخرج میں ابتدائی وارننگ جاری کی گئی۔ سعودی سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔سعودی حکام کے مطابق شہریوں کو کھلے مقامات، کھڑکیوں اور بالکونیوں سے دور رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا۔ بعد ازاں خطرہ ٹلنے پر سول ڈیفنس نے ریاض اور الخرج کے لیے جاری الرٹ واپس لے لیا۔اس سے قبل سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی وارننگز جاری کی گئی تھیں۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق 17 ستمبر کو طائف گورنریٹ میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد ملبہ گرنے کے واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوئے تھے۔یوں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات اور سعودی عرب میں سکیورٹی الرٹس خطے میں جاری کشیدگی کے وسیع تر اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔