آبنائے ہرمز: بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی بحری جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث ہزاروں ملاح آبنائے ہرمز کے قریب پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ خطے میں سمندری آمدورفت اور عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ تقریباً دو ہفتوں کے دوران اس اہم بحری گزرگاہ کے قریب 24 بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات نے بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ، ملاحوں کی سلامتی اور عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
آئی ایم او سربراہ کی صورتِ حال پر تشویش
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومنگیوز نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی صورتِ حال بدستور سنگین اور نازک ہے۔ان کے بیان کے مطابق، تجارتی جہازوں پر حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث سمندری نقل و حرکت متاثر ہورہی ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب موجود ملاحوں کو طویل انتظار، غیر یقینی صورتِ حال اور حفاظتی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
عالمی تجارت کے لیے اہم بحری راستہ
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے، جبکہ تجارتی جہاز بھی بین الاقوامی منڈیوں تک سامان پہنچانے کے لیے اس راستے پر انحصار کرتے ہیں۔اس گزرگاہ میں کشیدگی یا جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے سے توانائی کی ترسیل، مال برداری کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم، ان ممکنہ اثرات کی شدت کا انحصار صورتِ حال کے دورانیے اور بحری راستے کی دستیابی پر ہوگا۔
ملاحوں کی سلامتی سب سے اہم تشویش
تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے دوران جہازوں کے عملے کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ طویل عرصے تک بندرگاہ تک رسائی یا محفوظ راستے کے انتظار میں رہنے والے ملاحوں کو خوراک، طبی سہولتوں، آرام اور اہلِ خانہ سے رابطے جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔آئی ایم او کی جانب سے صورتِ حال کو سنگین قرار دیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف تجارتی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ سمندر میں کام کرنے والے افراد کی حفاظت بھی اس کا اہم پہلو ہے۔