عزیز بھٹی ٹائون کے ڈائریکٹر شرجیل حسین اور ایکسیئن بابر مرزا کی غفلت کے باعث لاہور کی تاریخی نہر میں سیوریج کے پانی کو شامل کیا جا رہا ہے
نہر کا پانی آلودہ ہونے کے ساتھ نہر کے اطراف رہنے والوں کو بدبو اور بیماریوں کا سامنا ہے‘وزیراعلی پنجاب اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لیں:شہری
لاہور (شہزاد راجپوت) صوبائی دارالحکومت کا حسن لاہور کینال وزیر اعلی پنجاب کی عدم توجہ سے زہریلے پانی میں تبدیل ،نکاسی آب کے لئے اربوں کے فنڈ ضائع ہو گئے،شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی تاریخی نہر آج سنگین آلودگی کا شکار ، واسا عزیز بھٹی ٹائون کے ڈائریکٹر شرجیل حسین اور ایکسیئن بابر مرزا کی کھلی غفلت، مجرمانہ خاموشی اور عدم کارکردگی نے محکمہ انہار کے ایس او پیز کو پس پشت ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے بنائی گئی تاریخی نہر میں مبینہ طور پر سیوریج کے پانی کو شامل کیا جا رہا ہے۔جس سے نہ صرف نہری پانی آلودہ ہو رہا ہے بلکہ نہر کے اطراف بدبو اور بیماریوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ماحولیاتی تباہی کی طرف واضح اشارہ ہے۔ذرائع کے مطابق واسا لاہور انتظامیہ کی کھلی غفلت، مجرمانہ خاموشی اور ناقص کارکردگی نے صورتحال کو یہاں تک پہنچا دیا ہے محکمہ انہار کے واضح ایس او پیز کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ذمہ دار افسران کی عدم دلچسپی کے باعث سیوریج کے پانی کو نہر میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے کوئی موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔شہری حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس ماحولیاتی بحران کا نوٹس لیا جائے، ذمہ دار افسروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور نہر کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔اگر اس سنگین غفلت اور ماحولیاتی جرم کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف لاہور بلکہ اس سے جڑے دیہی علاقوں کے لیے بھی ایک بڑے انسانی و ماحولیاتی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک ایسا مجرمانہ اقدام ہے جو شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔جس کا فوری اور سخت احتساب ناگزیر ہے۔لاہور کے شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ واسا کے اس قاتل اقدام کے خلاف نوٹس لیں۔