جمال خاشقجی کی بیوہ حنان الاتر خاشقجی نے واشنگٹن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورے کے بعد ایک بار پھر اپنے شوہر کے قتل پر معافی اور مالی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ولی عہد کی جانب سے قتل کو ’بڑی غلطی‘ قرار دینا کافی نہیں، بلکہ انہیں ذاتی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔حنان الاتر خاشقجی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کے شوہر کا قتل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں، کیونکہ جمال خاشقجی ایک بہادر اور سچا صحافی تھا، جس کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے ایسا اقدام برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امریکی صدر سے بھی درخواست کی کہ وہ اِنہیں سعودی ولی عہد سے مالی تصفیہ میں مدد فراہم کریں، کیونکہ خاشقجی کے قتل نے ان کی زندگی تباہ کر دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو ریاض کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ایک انٹرویو میں حنان الاتر نے کہا کہ اگر جمال خاشقجی زندہ ہوتے، تو وہ خود ولی عہد سے ملاقات کر کے اپنی رائے اور اصلاحات کے بارے میں گفتگو کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ خاشقجی ملک کی بہتری کے لیے نئی آوازیں اور خیالات لانا چاہتے تھے، مگر ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب بھی ’حقیقی انصاف‘ کا انتظار ہے۔
پسِ منظر
واضح رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں سعودی صحافی کے قتل کے آپریشن کو براہ راست منظوری دینے کا اشارہ دیا گیا تھا، جسے سعودی حکومت نے مسترد کر دیا۔جمال خاشقجی کی لاش آج تک نہیں ملی، اور سعودی عرب میں ہونے والے مقدمے میں کئی افراد کو سزائیں سنائی گئیں، جن میں سے بعض سزائیں بعد میں تبدیل کر دی گئیں۔حنان الاتر نے زور دیا کہ قتل کا اعتراف کافی نہیں، بلکہ معافی، ملاقات اور مکمل معاوضہ دیا جانا چاہیے تاکہ اس سانحے کا حقیقی طور پر ازالہ ہو سکے۔