صدر ہائیکورٹ بار کاہر جمعرات کو ارجنٹ کیسز کے بعد ہڑتال ، ریلیوں کا اعلان
آئینی عدالت کا بائیکاٹ کریں، اسکا حصہ بننے والا عدلیہ مخالف تصور ہوگا:اعلامیہ
لاہور (کرائم رپورٹر) آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ہر جمعرات کو ارجنٹ کیسز کے بعد ملک گیر ہڑتال اور احتجاجی ریلیوں کا اعلان کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے زیرِ اہتمام ہونے والے اجلاس میں بیرسٹر اعتزاز احسن، سینیٹر حامد خان، ایم این اے لطیف کھوسہ اور لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر آصف نسوانہ ودیگر وکلا رہنماؤں نے شرکت کی۔بیرسٹر اعتزاز احسن نے خطاب میں کہا کہ پارلیمنٹ کو بالادست قرار دیا جاتا ہے مگر اصل بالادستی آئین کی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ جوڈیشری سے متعلق اٹھنے والے کسی بھی ایشو کو دبنے نہ دیا جائے۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ وزیر قانون کے پاس نہ 26 ویں اور نہ 27 ویں آئینی ترامیم کا کوئی واضح مسودہ تھا، آج آئین پر جو حملہ کیا گیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔سینیٹر حامد خان نے کہا کہ اس ملک میں آئین کا وجود صرف نام کا رہ گیا ہے۔ نو فروری کو جعلی پارلیمنٹ تشکیل دی گئی، اگر ہم نے ابھی فیصلہ نہ کیا تو عدالتیں مذاق بن کر رہ جائیں گی۔لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر آصف نسوانہ نے کہا کہ بار ہر جمعرات کو ارجنٹ کیسز کے بعد مکمل عدالتی بائیکاٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا امید ہے تمام ججز ہماری ہڑتال کی کال کا احترام کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی موجودگی میں کسی علیحدہ آئینی عدالت کی ضرورت نہیں، جبکہ موجودہ ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کے مترادف ہیں۔ 27 ویں ترمیم سے سب سے زیادہ ججز متاثر ہوئے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز کی حیثیت کمزور کر دی گئی اور ہائیکورٹ ججز پر ٹرانسفر کی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں آل پاکستان وکلا ایکشن کمیٹی نے ملک بھر کے وکلا سے وفاقی آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ اعلامیہ کے مطابق کمیٹی اس عدالت کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، سپریم کورٹ کی موجودگی میں کسی علیحدہ آئینی عدالت کی ضرورت نہیں، جو اس غیر آئینی ادارے کا حصہ بنے گا وہ آئین، عدلیہ اور عوام کا مخالف تصور ہوگا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ 26 ویں اور 27 ویں ترامیم بغیر عوامی مینڈیٹ کے کی گئیں اور یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر غیر آئینی حملہ ہیں۔ تمام بار ایسوسی ایشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہر جمعرات جنرل ہاؤس اجلاس منعقد کریں اور احتجاجی ریلیاں نکالیں۔