ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں شدید سردی برقرار رہ سکتی ہے۔
صبح اور رات کے اوقات میں درجہ حرارت میں کمی کے سبب سردی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔پنجاب کے میدانی علاقوں میں اسموگ کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے، اور صبح و شام کے اوقات میں چند مقامات پر ہلکی دھند کی چھائی رہنے کا امکان ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم خشک اور پہاڑی علاقوں میں سرد رہا، جبکہ پنجاب کے بعض میدانی علاقوں میں ہلکی دھند چھائی رہی۔کم سے کم درجہ حرارت اسکردو میں منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آج پشاور میں درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے۔ صوبے کے بالائی اضلاع میں موسم شدید سرد رہے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج ملک بھر میں کہیں بھی بارش کا امکان نہیں ہے، تاہم دسمبر میں طوفانی بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ لاہور میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، اسلام آباد میں 25 اور کراچی میں 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت رہنے کی توقع ہے، اور شہر اقتدار میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
دوسری جانب، پنجاب حکومت کے اقدامات کی بدولت لاہور کے ایئر کوالٹی انڈیکس میں بہتری آئی ہے، مگر ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق لاہور فضائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 206 ریکارڈ کیا گیا ہے۔پنجاب کے دیگر شہروں فیصل آباد کا اے کیو آئی 349، گوجرانوالہ کا 344 اور ملتان کا 272 ہے، جبکہ بھارتی دارالحکومت دلی میں فضائی آلودگی بدستور سب سے زیادہ ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 407 تک پہنچ چکا ہے۔قومی ادارہ صحت نے سموگ کے سبب سانس کی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، اور ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں سموگ سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر پر زور دیا گیا ہے۔ ادارہ صحت کے مطابق، فضا میں زہریلے مادے اور سردی مل کر نمونیا جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں، اور اس صورتحال سے صحت، معیشت اور معیارِ زندگی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔حکام نے بتایا ہے کہ لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں سب سے زیادہ خطرات موجود ہیں، اور بچوں، بزرگوں سمیت سب کو ماسک کا استعمال کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔