ویب ڈیسک:پاکستان نے بنگلا دیش کو ڈینگی کی وبا سے نمٹنے میں مدد کی پیشکش کی ہے، جس کے بعد بنگلا دیش میں رواں سال ڈینگی کی وجہ سے 400 سے زائد افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں بنگلا دیش میں ڈینگی کے پھیلاؤ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں بنگلا دیش کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑا ہے۔پاکستان نے اس وبا سے لڑنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے وسائل اور ماہرین کے ذریعے بنگلا دیش کے ساتھ تعاون کرے گا، تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور متاثرہ افراد کے علاج میں مدد کی جا سکے۔
بنگلا دیش میں مئی سے ستمبر تک ڈینگی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے ایک بیان کے مطابق، اس سال اب تک 421 افراد کی موت اور 81,068 ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال بنگلا دیش میں ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد 1,705 تھی، اور کل کیسز 321,179 تھے۔پاکستان کی طرف سے بنگلا دیش کو اس مشکل صورتحال میں مدد کی پیشکش دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کی مثال ہے۔ ڈینگی کی وبا کی روک تھام کے لیے پاکستان کی طرف سے فراہم کی جانے والی مدد میں طبی امداد، حفاظتی تدابیر اور آگاہی پروگرام شامل ہو سکتے ہیں۔