ویب ڈیسک:سندھ پولیس نے غیر قانونی طور پر چلنے والے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 9 غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کر لیا۔
یہ کارروائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیر صدارت اجلاس کے بعد کی گئی، جس میں حالیہ دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔
150 ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز کی تلاشی:
سی آئی اے کراچی نے شہر بھر میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کیا۔9 غیر ملکی باشندے گرفتار: غیر قانونی قیام پر گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔100 سے زائد ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس غیر رجسٹرڈ پائے گئے:یہ ادارے نہ تو ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے سرٹیفکیٹ کے تحت کام کر رہے تھے۔نہ ہی ہوٹل آئی سافٹ ویئر میں ان کا ریکارڈ موجود تھا۔
کریک ڈاؤن کے نتائج
غیر قانونی ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز فوری طور پر بند کر دیے گئے۔متعلقہ اداروں کو ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔سی آئی اے نے ان اداروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش کی ہے۔
حفاظتی اقدامات
ایئرپورٹ کے قریب دہشت گردی کے حالیہ واقعے کے پیش نظر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔غیر رجسٹرڈ اداروں کو دہشت گردی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوری کارروائی کی گئی۔اسپیشلائزڈ انویسٹی گیشن یونٹ نے 6 ٹیمیں تشکیل دے کر کارروائی کا آغاز کیا۔
آگے کا لائحہ عمل
ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی رجسٹریشن کو یقینی بنانے کے لیے ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔پولیس کی جانب سے مسلسل تفتیش اور کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔
یہ کریک ڈاؤن سندھ میں امن و امان کی بحالی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم قدم ثابت ہوگا۔