6 سال کے دوران ریجن اے میں کروائے گئے کاموں کا ریکارڈ ہی موجود نہیں
7کروڑ13 لاکھ 23 ہزار سے زائد بچے ہوئے فنڈزضائع ہو گئے:سرکاری دستاویزات
لاہور(دانش منیر)محکمہ ایکسائز کے ریجن اے میں 6 سال کی عرصہ میں کروڑوں رویے کی مالی بے ضابطگی بے نقاب ہوگئیں سرکاری دستاویزات کے مطابق 2016 سے 2022 کے دوران محکمہ ایکسائز کے ریجن اے میں 9 کروڑ 31 لاکھ 65 ہزار سے زائد کی مالی ہیرا پھیری ہوئی ڈائریکٹر ایکسائز ریجن اے محمد علی نوید متعدد بار رابطے کے باجود موقف دینے سے گریزاں ٹال مٹول سے کام لینے لگے۔تفصیلات کے مطابق 6 سال کے دوران ریجن اے میں کروائے گئے کام کا ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے جبکہ 7کڑور 13 لاکھ 23 ہزار سے زائد بچے ہوئے فنڈز کو سرینڈر ہی نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے فنڈز ضائع ہوں گئے، سرکاری دستاویزات میں مزید کہا گیا کہ1 کروڑ 98 لاکھ 47 ہزار کے غیر قانونی اخراجات پی او ایل پر کیے گئے3 لاکھ 25 ہزار سے زائد کے غیر قانونی اخراجات کیے گئے جبکہ منظور شدہ بجٹ سے زائد کے اخراجات کیے گیے،غلط درجہ بندی کے وجہ سے 10 لاکھ 37 ہزار سے زائد کے اخراجات کیے گئے ہیں، اور 5 لاکھ 47 ہزار سے زائد کے اخرجات ان گاڑیوں پر کیے گیے جو متعلقہ دفتر کی نہیں تھیں،2لاکھ 56 ہزار کیغیر قانونی اخرجات ٹائروں پر کیے گییاور 65 ہزار 8 سو 10رویے کے ٹی اے ڈی اے کی مد میں ملازمین سے ریکور ہی نہیں کیے گیے، اور تو اور کیش بک کی صحیح مین ٹینس ہی نہیں کی گئی، اور غیر ضروری سامان کی اوکشن ہی نہیں کی گئی،