لاہور (کرائم رپورٹر) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں ای پیمنٹ سسٹم نہ ہونے کے باعث کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ چیئرمین پبلک اکا ئونٹس کمیٹی ٹو علی حیدر گیلانی نے اس سنگین معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ ایکسائز پنجاب کی آڈٹ رپورٹ پر فوری کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مالی سال 2021 اور 2022 میں ای پیمنٹ سسٹم نافذ نہ کرنے سے پراپرٹی ٹیکس اور گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایکسائز کے بعض ملازمین نے کاغذی رسیدوں میں ہیر پھیر کر کے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں پراپرٹی ٹیکس کی ریکوری میں ریکارڈ بدعنوانی ہوئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس میں بھی فراڈ کا انکشاف ہوا، جس پر چیئرمین پبلک اکا ئونٹس کمیٹی ٹو نے محکمہ ایکسائز میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ای پیمنٹ سسٹم نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی۔سیکرٹری ایکسائز مسعود مختار نے کہا کہ مالی بے ضابطگیوں کے خاتمے کا واحد حل ای پیمنٹ سسٹم ہے اور پراپرٹی ٹیکس و گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس سمیت تمام ادائیگیاں ای سسٹم کے ذریعے ہونی چاہئیں۔ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے بھی اس امر پر زور دیا کہ ای پیمنٹ سسٹم اور کیش لیس نظام ہی بدعنوانی کے خاتمے کی ضمانت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیوں کی سب سے بڑی وجہ پرانی رسیدی نظام ہے، جسے ختم کرنا ناگزیر ہوچکا ہے