امریکی عدالت نے ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے خلاف ایلون مسک کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کیس مقررہ قانونی مدت (statute of limitations) کے بعد دائر کیا گیا، اس لیے یہ قابلِ سماعت نہیں رہا۔
9 رکنی جیوری نے متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ایلون مسک نے قانونی کارروائی میں تاخیر کی، جس کے باعث ان کے تمام دعوے قانون کے تحت خارج کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں جج ایوون گونزالیز راجرز نے بھی جیوری کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اوپن اے آئی اور اس کی قیادت کے خلاف تمام الزامات مسترد کر دیے۔مقدمے میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے ابتدا میں غیر منافع بخش ادارے کے طور پر انسانیت کی فلاح کا وعدہ کیا تھا، لیکن بعد میں یہ ادارہ منافع کمانے والی کمپنی میں تبدیل ہو گیا، جو ان کے مطابق اصل مقصد کے خلاف ہے۔ایلون مسک نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ اوپن اے آئی کی قیادت، خصوصاً سام آلٹمین اور گریگ بروک مین نے کمپنی کے اس مبینہ تبدیلی کے عمل میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ کمپنی کو ہمیشہ کے لیے غیر منافع بخش رکھنے کا کوئی تحریری یا قانونی وعدہ موجود نہیں تھا۔ کمپنی کے مطابق ایلون مسک خود ادارے پر زیادہ کنٹرول چاہتے تھے اور بعد ازاں انہوں نے اپنی الگ اے آئی کمپنی قائم کرنے کے بعد مقدمہ دائر کیا۔یہ مقدمہ تقریباً تین ہفتے جاری رہا جس دوران اہم شخصیات کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں سام آلٹمین، ایلون مسک اور مائیکرو سافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا شامل تھے۔عدالتی فیصلے کے بعد اوپن اے آئی کو قانونی سطح پر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جبکہ ایلون مسک کو اپنے دعوؤں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔