ایم ایف حکام کے مابین بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرا ت میں عالمی مالیاتی فنڈ کو پہلے سے جاری ترقیاتی منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرا دی گئی۔ سرکاری پروکیورمنٹ کیلئے وفاق اور صوبوں میں آن لائن نظام بھی نافذ ہوگا۔میڈیارپورٹ کے مطابق وفد سے مذاکرات کے دوران حکومت نے نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے محدود مالی گنجائش کا اعتراف کرلیا۔ کہا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت وفاقی و صوبائی منصوبوں کی ممکنہ مالی ذمہ داریاں 472 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 10 فیصد سے کم فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، یقین دہانی کروائی کہ پہلے سے جاری منصوبے کو ترجیح دی جائے گی۔وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ نئے بجٹ میں گذشتہ مالی سال اصل ہدف ایک ہزار ارب سے کم فنڈز کی گنجائش ہے۔ صرف 986 ارب روپے مختص کے جا سکتے ہیں۔‘آئی ایم ایف نے بے نظیر کفالت کی رقم میں 5500 روپے اضافے کا مطالبہ کردیاہے۔ رقم 14500 روپے سے بڑھا کر 20 ہزار کرنے کی تجویزدی ہے