حکومت نے آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کی یقین دہانی کرائی، بجٹ مذاکرات جاری
پاکستان کی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان نئے بجٹ کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات جاری ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو نان فائلرز کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے تحت نان فائلرز کے لیے گاڑیوں اور جائیداد کی خریداری پر پابندی عائد ہوگی اور وہ مالی لین دین کی ٹرانزیکشن نہیں کر سکیں گے۔وزارت خزانہ، ایف بی آر، پلاننگ کمیشن، اکنامک افیئرز ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم کے حکام پر مشتمل ٹیم آئی ایم ایف کے ساتھ آمدن اور اخراجات پر حتمی مذاکرات کر رہی ہے۔ حکومت تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر وہ افراد جو سالانہ 10 سے 12 لاکھ روپے تک کماتے ہیں، انہیں ٹیکس فری کرنے کی بات زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نئے بجٹ میں نان فائلرز کے لیے مزید سخت پالیسیاں نافذ کرے گا اور ٹیکس نظام سے نان فائلرز کی کیٹگری کو ختم کرنے پر کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں، ودہولڈنگ ٹیکس میں اضافے اور تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے تجزیے سے ٹیکس نیٹ کو موثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم بھی فعال ہو چکا ہے، جسے کارپوریٹ ٹیکس یونٹس تک توسیع دی جائے گی۔آئی ایم ایف کا وفد 22 مئی تک اسلام آباد میں قیام کرے گا جہاں وزارت خزانہ، ایف بی آر، پلاننگ کمیشن اور اسٹیٹ بینک کے حکام کے ساتھ بجٹ اور مالی سال 2025-26 کی پالیسی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔