مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ فریقین کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بنکرز اور اسلحہ تھا، جو اب علاقے سے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
بنکرز اور اسلحہ کے خاتمے کی تفصیلات:
بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ کرم کے علاقے میں مجموعی طور پر 979 بنکر تباہ کر دیے گئے ہیں جبکہ 86 دیہات سے اسلحہ اور گولہ بارود سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔
ترقیاتی کام اور مالیاتی منظوری:
مشیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ ٹل پاراچنار روڈ کی مرمت کے لیے 10 کروڑ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے آمدورفت میں بہتری آئے گی۔ علاوہ ازیں، علاقے میں 30 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے بازاروں کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔
سڑک کی توسیع کا منصوبہ:
بیرسٹر سیف نے بتایا کہ 9.6 ارب روپے کی لاگت سے سڑک کی توسیع کا بڑا منصوبہ جاری ہے، جس کا مقصد علاقے کی ترقی کو مزید فروغ دینا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
مجموعی صورتحال:
مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ اب کرم کا علاقہ بنکروں اور اسلحے سے پاک ہے اور ترقیاتی عمل تیزی سے جاری ہے، جس سے نہ صرف امن قائم ہو گا بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں بھی پیدا ہوں گی۔