ویب ڈیسک: معروف اداکار آصف رضا میر نے حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی سابقہ بہو سجل علی اور بیٹے احد رضا میر کے درمیان طلاق کے حوالے سے پہلی بار کھل کر بات کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ رشتے ٹوٹنے کا مطلب زندگی کا رک جانا نہیں ہوتا، انسان کو آگے بڑھنا آنا چاہیے۔آصف رضا میر کا کہنا تھا کہ احد اور سجل کی طلاق پر مداحوں کی جانب سے دکھ اور حیرت کا اظہار کیا گیا کیونکہ وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتے تھے، مگر زندگی میں تعلقات بننا اور ختم ہونا فطری عمل ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم سب انسان ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں لیکن زندگی وہیں ختم نہیں ہوتی۔‘‘اداکار نے زور دیا کہ پرانے زخموں کو بار بار چھیڑنے کے بجائے انہیں بھرنے دینا چاہیے، اور ان کا خاندان یہی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزرے وقت پر افسوس کرنے کا فائدہ نہیں، زندگی کو آگے بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وہ جلد ہی ایک نئے پراجیکٹ "میں منٹو نہیں ہوں" میں سجل علی کے والد کا کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔
اس پروجیکٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے شروع ہو گئے کہ سجل ان کی سابقہ بہو ہیں، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ’’ہم دونوں پروفیشنل اداکار ہیں اور یہ ایک پیشہ ورانہ فیصلہ ہے۔‘‘آصف رضا میر نے کہا کہ ’’رشتے ختم ہو سکتے ہیں مگر باہمی احترام باقی رہنا چاہیے، اور سجل کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے ہم نے یہی سوچا۔‘‘انہوں نے ہم ٹی وی کی 20ویں سالگرہ کی تقریب کا حوالہ بھی دیا، جہاں احد اور سجل کو ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان ایسی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا اور نہ ہی ان سے متاثر ہوتا ہے۔یاد رہے کہ احد رضا میر اور سجل علی نے مارچ 2020 میں شادی کی تھی، مگر دو سال بعد مارچ 2022 میں ان کے درمیان علیحدگی کی خبریں سامنے آئیں۔ تاحال دونوں فنکاروں نے اس پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔