پاکستان کا نیا مالی سالانہ بجٹ 2 جون کو پیش کیا جائے گا

پاکستان کا نیا مالی سالانہ بجٹ 2 جون کو پیش کیا جائے گا

ویب ڈیسک: پاکستان میں نئے مالی سال کا بجٹ 2 جون کو پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات آج شروع ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف غیر ترقیاتی اخراجات میں سخت کنٹرول چاہتا ہے اور پاکستان سے مطالبہ ہے کہ آئندہ مالی سال کی مجموعی آمدن کو 20 کھرب روپے تک بڑھایا جائے، جبکہ موجودہ مالی سال کی آمدن تقریباً 17.8 کھرب روپے ہے۔پاکستان حکومت تعمیراتی اور صنعتی شعبوں کے لیے خام مال پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں پراپرٹی کے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس، ایف ای ڈی اور سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد تک بڑھانے کی یقین دہانی کرائی جائے گی جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کے مختلف آپشنز بھی مذاکرات میں پیش کیے جائیں گے۔مذاکرات میں غیر ملکی قرض کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوگی کیونکہ اگلے مالی سال کے دوران پاکستان کو تقریباً 19 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے۔ آئی ایم ایف قرض کی پائیدار ادائیگی پر زور دے رہا ہے۔کاربن لیوی عائد کرنے، دفاع، ترقیاتی پروگرامز اور سبسڈی کی صورتحال پر بھی ان مذاکرات میں حتمی فیصلے متوقع ہیں۔