رفیع احمد
پاکستان میں جنس تبدیل ( ٹرانس جینڈر) کا قانون مئی 2018 میں قومی اسمبلی نے منظور کیا جبکہ لادین ممالک روس اور ہنگری نے اپنے یاں اس پر پابندی اس لیے لگادی کہ اس کے ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نقصانات بہت زیادہ تھے۔پاکستان میں قانون کے بن جانے سے ان کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ نوٹ کیا جارہا ہے یہ اضافہ پورے ملک کے طول عرض بالخصوص کراچی ، لاہور ، ملتان ،ڈی آء خان ، صوابی ، ڑوب ، بنوں ، مانسہرہ کے غریب طبقے کے افراد یہ گھناؤنا فعل کر رہے ہیں۔ تبدیلی جنس والے افراد معاشرے کے لیے فائدے مند ثابت نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ جنس تبدیل کرنے والے 99 ، فی صد افراد نفسیاتی ہوتے ہیں اور اپنی غربت کو عیاشی میں تبدیل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ، یہ ٹرانس جینڈر بالآخر عیاش مردوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ، شوبز انڈسٹری میں آجاتے ہیں ، مجرے کرتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ لاکھوں روپوں میں بکتے ہیں ، ان کی منڈی لگتی ہے افسوس کہ انہیں بیرون ملک خاص کر دبئی اور دوحہ وغیرہ دھندے کے لیے بھیجا جاتا ہے یہ بآسانی بیرون ملک اس لیے چلے جاتے ہیں کہ ان کے پاس شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے کی قانونی اجازت ہوتی ہے۔ ٹرانس جینڈر قانون سے ہم جنس پرستی کو بہت زیادہ فروغ ہو رہا ہے۔ "میری مرضی میرا جسم" کے بہودہ نعرے کو فروغ دے رہے ہیں۔
پاکستان میں تعلیمی شرح بہت کم ہے ، ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد بچے اسکول ہی نہیں جاتے ہیں، لاکھوں بچے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں، بے شمار بچے مشقت والے کام کرتے ہیں یہ وجہ ہے کہ اوسطاً 10، بچے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں ان کو اغوا، عصمت دری اور منشیات میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ہمارے ٹی وی ڈرامے گلیمر اور بے حیاء پھیلانے کا کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے تبدیلی جنس کا رحجان بڑھ رہا ہے، ان ڈراموں میں تبدیل جنس والے بھی گھس گئے ہیں۔
اسلام نے ہم جنس پرستی کو صدیوں سال پہلے حرام فعل قرار دیا تھا آج دنیا کے تمام معزز معاشرے اور طبی سائنس اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ تبدیلی جنس اور ہم جنس پرستی سے ذہنی و جسمانی صحت تباہ وبرباد ہو جاتی ہے یہ لوگ اپنے اندر ایڈز، بلڈ پریشر، امراض دل اور کینسر جیسے موذی مرض پیدا کر لیتے ہیں۔ اللہ نے خواہش نفس پورا کرنے کے لیے فطری طریقے بتائیں ہیں اور غیر فطری طریقوں کو نہایت ہی ناپسند فرمایا ہے، مطالعہ قرآن مجید سے ہمیں قوم لوط یاد آجاتی ہے کہ منع کرنے کے باوجود وہ لوگ ہم جنس پرستی میں مبتلا ہو گئے تھے ، پھر اللّہ نے ان پر پتھروں کی بارش کر کے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا تھا، اس سلسلے میں ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ملتی ہے کہ" جو شخص قوم لوط والا عمل کرے گا ، فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو"۔ ہمارے علماء کرام ، قوم پرست رہنما ، سیاسی و سماجی شخصیات ، اس مکرو کام
کو روکنے کی کوشش تو در کنار اپنی غیرت کی وجہ سے اس کا ذکر تک کرنا پسند نہیں کرتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ فی الفور ٹرانس جینڈر قانون کو ختم کرے، غربت ، بے روزگاری ، ناخواندگی کا مکمل خاتمہ کرے، نوجوانوں کو شادی کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ ان کی اس کام میں مدد کرے۔عوام الناس کو چاہیے کہ وہ اپنی اسمبلیوں میں اسلام سے محبت کرنے والے افراد کو بھیجیں ، پرنسپلز اور اساتذہ اپنے طلبہ کو اس کالے قانون کے بارے میں آگہی دیں، اگر آج ہم میں سے ہر فرد نے اپنا کردار ادا نہیں کیا تو پھرجگہ جگہ " بچہ منڈی" لگتی نظر آئے گی اور پھر ہمیں اللہ کے عذاب کے لیے تیار رہنا ہوگا۔