ڈاکٹر احمد جبران بلوچ
تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام اقوام جو ترقی یافتہ کہلاتی ہیں،انھوں نے تعلیم کو اپنی ترجیحِ اول بنایا۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں تعلیم ہمیشہ سے ہی پسماندگی، غفلت اور ناقص پالیسیوں کی بھینٹ چڑھی رہی ہے۔ حالیہ فیصلہ، جس کے تحت پنجاب میں سکولوں کے اوقاتِ کار کم کر کے صبح 8:45 سے دوپہر 1:30 بجے تک کر دیے گئے ہیں، اس المیے کی تازہ مثال ہے۔
یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں تعلیمی معیار پہلے ہی تنزلی کا شکار ہے، وہاں تعلیمی دورانیے کو مزید کم کرنا کس منطق کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟پاکستان میں گرمی کا موسم طویل ہوتا ہے اسی لیے پہلے گرمیوں میں وقت کم کر دیا جاتا ہے، پھر سال کے دوران اْس پر مزید تین ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں،مختلف وجوہات کبھی موسم، کبھی سیاسی ہل چل، احتجاج اور دھرنوں کے باعث اسکول بند رہتے ہیں۔یوں اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پورے سال میں امتحانات کے دن نکال کر بمشکل115کے قریب تدریسی دن بچتے ہیں، جن میں بھی اب اوقاتِ تدریس مزید کم کر دیے گئے ہیں۔اگر ہم دوسرے ممالک سے موازنہ کریں تو کینیڈا 194 دن، فن لینڈ 190 دن، برطانیہ 190 دن، جنوبی کوریا 190 دن، سنگاپور 200 دن، یو اے ای 182 دن اور انڈیا 200 دن۔
پاکستان میں تعلیمی پالیسی ہمیشہ وقتی فیصلوں کا شکار رہی ہے۔ نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی، نہ معیارِ تعلیم کی یکسانیت، اور نہ ہی اساتذہ کی تربیت کا جامع نظام۔ ہر حکومت آتی ہے اور پچھلی پالیسیوں کو رد کر کے نئے نعرے لے آتی ہے، مگر نتیجہ ہمیشہ وہی نکلتا ہے، بچوں کا تعلیمی نقصان اور والدین کی مایوسی۔
یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ تعلیمی زبوں حالی میں صرف حکومت نہیں بلکہ بعض اساتذہ بھی برابر کے شریک ہیں۔ سوشل میڈیا پر سکول ٹائمنگز کم ہونے کی خبر پر کئی لوگوں کو خوشی مناتے دیکھا گیا۔ کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ جو پیشہ علم بانٹنے سے جڑا ہے، اس پیشے کے اوقات ِ کار میں کمی کو خوشی سے قبول کیا جا رہا ہے؟ ایک مخلص استاد کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ طلبہ کا تعلیمی وقت کم ہو۔ اصل استاد جانتا ہے کہ علم کا چراغ وقت، محنت اور قربانی مانگتا ہے۔
پاکستان کا بجٹ بتاتا ہے کہ ہماری ترجیحات کہاں ہیں۔ جہاں دفاع، پروٹوکول اور غیر ترقیاتی اخراجات پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، وہاں تعلیم کے لیے قومی بجٹ کا بمشکل دو فیصد رکھا جاتا ہے۔ اس وقت ۲ کڑور ۰۸ لاکھ سے زائد بچے سکولز سے باہر ہیں، دیہی علاقوں میں آج بھی ہزاروں سکول بند ہیں، بیشتر سکولوں میں اساتذہ، فرنیچر اور بنیادی سہولیات موجود نہیں، اور جہاں سکول چل رہے ہیں وہاں وقت کم کر کے تعلیم کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔اگر پورے سال میں پڑھائی کے ٹائم کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں لگ بھگ 650 گھنٹے بچوں کو پڑھانے کے لئے ملتے ہیں جبکہ دنیا میں اوسطَ 900 گھنٹے صَرف کئے جاتے ہیں۔
اگر اسی رفتار سے ہم نے تعلیم کو غیر سنجیدگی سے لیا، تو آنے والے برسوں میں نہ صرف شرحِ خواندگی بلکہ معیارِ فکر و شعور بھی مزید گر جائے گا۔ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو محض سند یافتہ تو ہوگی، مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ قومیں سکول کے اوقات کم کرنے سے نہیں، تعلیمی معیار بلند کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم سنجیدگی سے سوچیں۔ تعلیم کو وقتی اعلانات، کمزور فیصلوں اور سیاسی نعروں سے نکال کر ایک قومی ایمرجنسی کے طور پر لیا جائے۔ اساتذہ کو اپنا کردار سمجھنا ہوگا، والدین کو اپنی ترجیحات درست کرنی ہوں گی، اور حکومت کو تعلیم کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ ہم واقعی آہستہ آہستہ تعلیم کو ختم کر دیں گے، اور پھر صرف افسوس باقی رہ جائے گا۔