وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی بیلجیم ہاکی فیڈریشن کو انڈر 21 ٹیم کے دورۂ پاکستان کی دعوت

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی بیلجیم ہاکی فیڈریشن کو انڈر 21 ٹیم کے دورۂ پاکستان کی دعوت

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے بیلجیم ہاکی فیڈریشن کو انڈر 21 ٹیم کے پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر مصدق ملک پاکستان ہاکی فیڈریشن کی دعوت پر خصوصی طور پر اسٹیڈیم پہنچے جہاں انہوں نے پاکستان اور بیلجیم کی ٹیموں کے درمیان میچ دیکھا۔ ان کی آمد پر، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے گورننگ بورڈ کے رکن چوہدری پرویز سندھیلہ نے ان کا استقبال کیا اور انہیں قومی ٹیم، یورپی دورے، اور آئندہ کے پروگراموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔مصدق ملک نے قومی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان ہاکی کا سنہری دور کب تھا جب پاکستانی ٹیم دنیا پر حکمرانی کرتی تھی، اور کہا کہ موجودہ نسل کو اس عظیم روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بعد ازاں، انہوں نے ہیڈ کوچ منظور الحسن، نائب کوچ محمد وسیم، ٹیم مینیجر خواجہ محمد جنید، اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی، جہاں کھلاڑیوں نے ان سے کھل کر گفتگو کی اور اس ملاقات کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

اس موقع پر، ڈاکٹر مصدق ملک کی بیلجیم ہاکی فیڈریشن کے سی ای او سرج پیلے سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بیلجیم کے درمیان ہاکی تعلقات کو مزید فروغ دینے، باہمی تعاون، اور نوجوان کھلاڑیوں کے تبادلوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے سرج پیلے کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جس پر سرج پیلے نے بیلجیم کی انڈر 21 ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی اصولی آمادگی ظاہر کی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ہاکی حلقوں کا کہنا ہے کہ، جب سے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے ذمہ داری سنبھالی ہے، قومی ہاکی میں ایک نئی امید اور مثبت فضا پیدا ہوئی ہے۔ فیڈریشن کی منظم منصوبہ بندی، بین الاقوامی مقابلوں، اور کھلاڑیوں کی بہتر تیاری کی کوششیں سراہنے لائق ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ہاکی عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی پہچان دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم تقریباً آٹھ سال بعد ایک بڑے عالمی ایونٹ میں شرکت کی تیاری کر رہی ہے۔ یورپ کی مضبوط ٹیموں کے خلاف یہ میچز نہ صرف کھلاڑیوں کے تجربہ کے لیے قیمتی ہیں بلکہ مستقبل میں عالمی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کی بنیاد بھی فراہم کر رہے ہیں۔