وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں سالانہ تکنیکی کانفرنس اور آئل شو سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں میں لبرلائزیشن کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار کے تحت ملک کو چلانا اتنا مشکل ہے کہ ایک پرچون کی دکان بھی اس طرح نہیں چل سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، بلکہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع فراہم کرنا چاہیے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے پی آئی اے کی نجکاری کی ناکامی کا ذکر کیا اور کہا کہ اب ایک بار پھر اس کی نجکاری کا عمل شروع کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی وسائل پر انحصار بڑھایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی طریقہ کار اور دقیانوسی انداز سے باہر نکلنا ہوگا تاکہ ملک میں ترقی ہو سکے۔توانائی کے شعبے کے حوالے سے وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت عوام تک توانائی کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے اور توانائی کی قیمتوں کو عوامی پہنچ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مقامی توانائی کی پیداوار بڑھانی چاہیے تاکہ عوام کم قیمت پر توانائی حاصل کر سکیں۔مصدق ملک نے کہا کہ ترقی کے لیے سائنس اور تحقیق میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اگر گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے لگے تو پاکستان کا نہری نظام تباہ ہو سکتا ہے، اس لیے تمام اقدامات ماحولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائے جانے چاہیے۔