فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی موجودہ فوجی حکمت عملی اس کے اپنے طویل مدتی مفادات کے خلاف ہے اور اس سے خطے میں تشدد اور ناراضگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق میکرون نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی وزیراعظم کے بارے میں سخت بیان درست تھا، جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو غیر ذمہ دار قرار دیا تھا۔فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ اسرائیل کی سلامتی ہمسایہ علاقوں پر فوجی قبضے سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے سیاسی استحکام اور خطے میں اعتماد سازی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکمت عملی طویل مدت میں اسرائیل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے خطے کی آبادیوں میں غصہ اور مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔میکرون نے یہ بھی اعلان کیا کہ فرانس جلد بین الاقوامی برادری کو متحرک کرے گا تاکہ لبنانی فوج کو اپنے علاقوں پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔