پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ موسمیاتی مذاکرات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسموگ اور فضائی آلودگی خطے کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، اور ان مسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک ہونا ضروری ہے۔ حکومت پنجاب نے اسموگ کے تدارک کے لیے 10 ارب روپے اور کلائمیٹ ریزیلینس کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت جدید اے کیو آئی مانیٹرز کی تنصیب، بایوگیس پلانٹس اور بایوریفائنری کے قیام، زرعی سیکٹر میں ای میکانائزیشن، اور گرین ٹرانسپورٹیشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔اس سے قبل، مریم اورنگزیب نے اسموگ کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانی زندگیاں بچانے کے لیے بھارت سے بات کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اسموگ بھارت سے آئی ہے اور ایک دم پھیل گئی ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنا ضروری ہے۔حکومت پنجاب نے اسموگ کے تدارک کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں پرائمری اسکولوں کی بندش، ماسک کی پابندی، اور کسانوں کو فصلوں کی باقیات نہ جلانے کی ہدایت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے اسموگ کے تدارک کے لیے شارٹ اور میڈیم ٹرم اقدامات کیے ہیں، اور مقامی سطح پر انفورسمنٹ اور سرویلینس جاری ہے۔