امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے کانگریس کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ ایران سے متعلق جنگی اخراجات اور دیگر عسکری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اسے تقریباً 80 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں سامنے آیا، جس کی بعد ازاں خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی تصدیقی انداز میں رپورٹنگ کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون کے نائب وزیر دفاع اسٹیفن فینبرگ نے حالیہ دنوں میں امریکی قانون سازوں سے رابطہ کیا اور انہیں بڑھتے ہوئے اخراجات سے آگاہ کیا۔پینٹاگون کے مطابق جنگی کارروائیوں، بیرونِ ملک امریکی فوج کی تعیناتی، اسلحہ اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری، اور دفاعی لاجسٹکس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث یہ اضافی مالی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ آپریشنز نے امریکی دفاعی بجٹ پر غیر معمولی دباؤ ڈالا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کئی جدید ہتھیاروں اور میزائل سسٹمز کے ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جنہیں دوبارہ بھرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق عالمی سطح پر فوجی تیاری اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ان ذخائر کی فوری بحالی ضروری ہے۔
ابتدائی طور پر پینٹاگون نے ایران سے متعلق ممکنہ فوجی کارروائیوں کے اخراجات کا اندازہ تقریباً 25 ارب ڈالر لگایا تھا، تاہم بعد میں اخراجات میں اضافے کے باعث یہ رقم کئی گنا بڑھ کر 80 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔کانگریس میں اس معاملے پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی رقم کی منظوری سے پہلے جنگ کے مقاصد، حکمتِ عملی اور قانونی جواز پر تفصیلی وضاحت ضروری ہے، جبکہ دیگر ارکان قومی سلامتی اور امریکی فوجی تیاری کو برقرار رکھنے کے لیے فوری فنڈنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔یہ معاملہ اب امریکی بجٹ اور خارجہ پالیسی دونوں کے لیے ایک اہم سیاسی بحث کی صورت اختیار کر گیا ہے۔