روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں عالمی رہنماؤں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
کریملن کا بیان:
روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بالخصوص ایران پر اسرائیلی حملوں پر شدید مذمت کی اور اسے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔کریملن کے بیان میں مزید کہا گیا کہ:"صدر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام مسائل کا سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل نکالنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔"
چینی صدر کی حمایت برائے روسی ثالثی:
چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کے معاملے میں روسی ثالثی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا:"ہم روس کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایران کے تنازع میں روس اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔"
اسرائیلی اقدامات پر شدید ردعمل:
دونوں رہنماؤں نے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کو جارحیت اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی۔
جی 7 اجلاس پر تبادلہ خیال:
ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں صدور نے حال ہی میں کینیڈا میں ہونے والے G7 اجلاس پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے G7 اجلاس میں بعض متنازع بیانات اور پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا، خاص طور پر ان نکات پر جو روس اور چین کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھے گئے۔
پیوٹن کا چین کا آئندہ دورہ:
کریملن نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ روسی صدر پیوٹن جنگ عظیم دوم کی تقریبات میں شرکت کے لیے جلد چین کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ اعلیٰ سطحی قیادت سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
عالمی تناظر:
مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ ایسے میں روس اور چین کی مشترکہ سفارتی کوششیں عالمی طاقتوں کے لیے ایک اہم پیغام تصور کی جا رہی ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق، پیوٹن-شی جن پنگ رابطہ خطے میں طاقتوں کے توازن اور ممکنہ جنگی صورتِ حال کے خاتمے کے لیے اہم سنگ میل بن سکتا ہے۔