گوادر (ویب ڈیسک): بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں منعقدہ ایک تعلیمی تقریب اس وقت ایک تاریخی لمحے میں بدل گئی جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک باہمت طالبہ کی آواز پر غیر معمولی اور جذباتی ردعمل کا مظاہرہ کیا۔
طالبہ کا درد، وزیر اعلیٰ کی توجہ
تقریب کے دوران گوادر سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ نفیسہ نے شکوہ کیا کہ:"میری آواز کوئٹہ تک نہیں پہنچتی، میرے تعلیمی مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔"نفیسہ کے ان الفاظ نے ماحول کو ایک خاموش جذباتی لمحے میں بدل دیا۔
وزیر اعلیٰ کا باوقار اور متاثرکن جواب
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے نہ صرف نفیسہ کی بات دل سے سنی بلکہ فوری طور پر اسٹیج پر بلایا، محبت سے اس کا سر تھپتھپایا اور ’بیٹی‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے اپنی کرسی اسے پیش کر دی۔ان کا کہنا تھا:"نفیسہ صرف گوادر نہیں بلکہ پورے بلوچستان کی بیٹی ہے، اور میں ذاتی حیثیت میں اس کی مکمل تعلیمی کفالت کروں گا۔"
تعلیم کے لیے وزیر اعلیٰ کا عملی وعدہ
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ:نفیسہ کی تمام تعلیمی اخراجات وہ ذاتی طور پر برداشت کریں گے۔بلوچستان کے ہر طالب علم کی آواز سنی جائے گی، خواہ وہ صوبے کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتا ہو۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس واقعے کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جہاں صارفین نے وزیر اعلیٰ کے عاجزانہ اور شفیق رویے کو خوب سراہا۔ کئی افراد نے اسے بلوچستان کی سیاست میں انسانی ہمدردی کی ایک خوبصورت جھلک قرار دیا۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا ردعمل
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف علامتی نہیں بلکہ عملی مدد کا وعدہ ہے، جو بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔تعلیمی حلقوں نے اسے حوصلہ افزائی اور تبدیلی کا پیغام قرار دیا۔