ایران کا اسرائیل پر اب تک کا سب سے بڑا میزائل حملہ، 50 سے زائد زخمی، وسیع پیمانے پر تباہی

ایران کا اسرائیل پر اب تک کا سب سے بڑا میزائل حملہ، 50 سے زائد زخمی، وسیع پیمانے پر تباہی

ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی، ایران نے آج صبح اسرائیل پر اپنے سب سے بڑے میزائل حملے کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 50 سے زائد صہیونی زخمی ہو گئے، متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

  حملے کی نوعیت اور ہدف:
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران نے درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس، بیئرشیوا اور ہولون جیسے اہم شہروں پر داغے۔تل ابیب اور یروشلم میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے شہر بیئرشیوا اور مرکزی شہر ہولون میں بھی میزائل حملے ہوئے جن کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
  جانی نقصان اور زخمیوں کی حالت:
اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ:کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہریوں کو بم شیلٹرز میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
  سیجل میزائل کا پہلا استعمال:
ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملہ "آپریشن وعدہ صادق سوم" کے تحت کیا گیا۔ایران نے اس بار پہلی مرتبہ جدید ترین بیلسٹک میزائل "سیجل" کا استعمال کیا، جو:انتہائی بلندی پر پرواز کر کے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تل ابیب اور حیفہ جیسے حساس مقامات پر فائر کیا گیا۔
  اسرائیلی دفاعی نظام کی ناکامی:
ایران کے دعوے کے مطابق:"فائر کیے گئے درجن بھر میزائلوں میں سے کئی نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔"اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم حرکت میں آیا لیکن جدید میزائلوں کی پرواز اور طاقت کی وجہ سے:"تمام میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔"
  سائرن، خوف اور تباہی:
حملے کے دوران اسرائیل بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔شہری علاقوں میں افراتفری پھیل گئی، لوگ پناہ گاہوں میں بھاگتے دیکھے گئے۔ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
  عالمی ردعمل کا منتظر خطہ:
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ:"ایران کی جانب سے براہ راست اور مکمل عسکری جارحیت ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔"اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں امن کی اپیل کر رہی ہیں، جبکہ امریکہ، چین اور روس صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
  خلاصہ:
ایران کی جانب سے اسرائیل پر یہ حملہ حالیہ جنگی صورتحال میں سب سے شدید اور براہ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی راہ اختیار کی تو خطہ مکمل طور پر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔