میٹا نے اپنے تقریباً 8،000 ملازمین کو فارغ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جو کہ کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا 10 فیصد ہے۔
یہ اقدام کمپنی کی اخراجات میں کمی، ادارہ جاتی ڈھانچے کو مؤثر بنانے اور مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری کے تحت لیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں متاثرہ ملازمین کو 16 ہفتوں کی بنیادی تنخواہ بطور سیورینس دی جائے گی، اور ہر مکمل ملازمت کے سال پر مزید 2 ہفتوں کی اضافی تنخواہ بھی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو 18 ماہ تک طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دیگر ممالک میں ملازمین کو مقامی قوانین کے مطابق اسی نوعیت کے پیکجز دیے جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی، کمپنی نے 7,000 سے زائد ملازمین کو نئی مصنوعی ذہانت ٹیموں میں منتقل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد افرادی قوت اس تبدیلی سے متاثر ہو گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات تیز رفتار فیصلے اور بہتر کارکردگی کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاکہ کم مینیجمنٹ اور چھوٹی ٹیموں کے ذریعے کام کو بہتر بنایا جا سکے۔میٹا رواں سال مصنوعی ذہانت اور نئے ڈیٹا سینٹرز پر تقریباً 145 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں چھانٹیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور رپورٹس کے مطابق، رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکنالوجی کی صنعت میں 52,050 ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے، جن میں سے ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے متعلق تبدیلیاں ہیں۔