وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں پاکستانی وفد نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی سیکریٹری اور امریکی تجارتی نمائندے (USTR) کے ساتھ جامع مشاورت کی گئی۔
ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا اور باہمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا تھا۔ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاک امریکا ٹریڈ ڈائیلاگ کے تحت جاری پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔
وزیر خزانہ کا موقف:
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ:"پاکستان امریکا کے ساتھ معاشی روابط کو فروغ دینے کے لیے تمام ممکنہ راستوں کی تلاش جاری رکھے گا۔ امریکا پہلے ہی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ شراکت داری مزید مستحکم ہو۔"
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خاص طور پر درج ذیل شعبوں میں تعاون کا خواہشمند ہے:
ٹیکنالوجی اور آئی ٹی
معدنیات و قدرتی وسائل
زراعت اور زرعی ٹیکنالوجی
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہا ہے اور باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کے دروازے کھلے ہیں۔
حل طلب امور پر بھی بات چیت:
ملاقات کے دوران چند حل طلب تجارتی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد نے امید ظاہر کی کہ ان مسائل کو تعمیری انداز میں حل کیا جائے گا اور آنے والے دنوں میں تجارتی مذاکرات مزید مثبت پیش رفت کی جانب بڑھیں گے۔
پس منظر:
یاد رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے دوطرفہ تجارتی مذاکرات جاری ہیں جن کا مقصد برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش، اور تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ ہے۔