سینیٹ انتخابات: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان نے کاغذات واپس لینے سے انکار کر دیا، الیکشن ملتوی ہونے کا خدشہ

سینیٹ انتخابات: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے ناراض ارکان نے کاغذات واپس لینے سے انکار کر دیا، الیکشن ملتوی ہونے کا خدشہ

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سینیٹ انتخابات سے قبل اندرونی اختلافات کا سامنا ہے، جب پارٹی کے ناراض ارکان نے سینیٹ کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی واپس لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

 ان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ "چاہے کچھ بھی ہو جائے، الیکشن ہر صورت لڑیں گے۔"ذرائع کے مطابق ناراض ارکان میں عرفان سلیم، عائشہ بانو، خرم ذیشان، وقاص اورکزئی اور ریاض حسین شامل ہیں، جنہوں نے پارٹی قیادت کی ہدایات کے برعکس انفرادی حیثیت میں سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کرائے تھے۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا سخت مؤقف
پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی کے پیشِ نظر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناراض ارکان نے بروقت کاغذات نامزدگی واپس نہ لیے تو سینیٹ انتخابات ملتوی کیے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے گزشتہ چند دنوں میں ناراض امیدواروں سے رابطے اور ملاقاتیں کی ہیں تاکہ انہیں قائل کیا جا سکے کہ وہ پارٹی پالیسی پر عمل کریں، تاہم یہ کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔

پی ٹی آئی کا بلامقابلہ انتخاب کرانے کا منصوبہ
پی ٹی آئی قیادت نے رواں سال سینیٹ انتخابات کو بلامقابلہ کرانے کے لیے حکمت عملی مرتب کی تھی۔ پارٹی کی سیاسی و پارلیمانی کمیٹی نے مشاورت کے بعد متفقہ طور پر امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی تھی، جس میں درج ذیل افراد کو نامزد کیا گیا تھا:

جنرل نشستیں: مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، نور الحق قادری
ٹیکنوکریٹ نشست: سینیٹر اعظم سواتی
خواتین کی نشستیں: مشال یوسفزئی، روبینہ ناز
پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے اور شفاف انتخابی عمل کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ ماضی کی طرح پیسے کے زور پر ارکان خریدنے کے رجحان کو روکا جا سکے۔

سیاسی منظرنامے پر غیر یقینی صورتحال
ناراض امیدواروں کے کاغذات واپس نہ لینے کی ضد نے پی ٹی آئی کی بلامقابلہ انتخابی حکمت عملی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے باعث الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ ڈیڈ لاک ختم نہ ہوا تو الیکشن کمیشن کو نہ صرف الیکشن ملتوی کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ پی ٹی آئی کو پارٹی کے اندر سخت تادیبی کارروائیاں بھی کرنا پڑیں گی۔